Zauq-e-Naat
ذوق نعت
Index / Fehrist
کلام کی فہرستنعتِ َحسن آمدہ نعتِ حسن
حسن رضا باد بزیں سلام
شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا
اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا
شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین
جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا
ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں
جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول
ہوگیا ختم یہ رسالہ آج
شکر خالق کریں نہ کیونکر ہم
اچھے کے پیارے میرے سہارے
باہر ہیں بیاں سے اُن کے مناقب
یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج
اِنعام کچھ اس کا مجھے اے بحرِ سخا دو
جُبِّ آلِ رسول بحرِ عرفاں
رونق دہ خاندانِ برکات
حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا
جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو
اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں
اَلسَّلَام اے راحت جانِ حزیں
ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار
گواہ ہیں دلِ مخزون و چشمِ دَریا بار
اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا
اَخترِ برجِ سخاوَت گوہر دُرجِ عطا
ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری
بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے
نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مِرے دِل میں چین آئے تو اسے قرار آئے
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری اَنجمن آرائی کے
کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے مَلاحت کسی کی
مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے
نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے
کہ آج رُک رُک کے خونِ دِل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے
نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے
درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دَوا لے
آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے
کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے
اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے
ہم نے تقصیر کی عادت کرلی
آپ اپنے پہ قیامت کرلی
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی
کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقت ان کی
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو
سن لو میری اِلتجا اچھے میاں
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں
کہ نااُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
تمہیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ اِمکاں میں
کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں
اپنے سرکار کے دَربار کو کیونکر دیکھیں
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لئے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں
اَسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم
فقیروں کے حاجت رَوا غوثِ اعظم
اللہ برائے غوثِ اعظم
دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم
جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہند بد اَختر سے ہم
تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم
اے مَدینے کے تاجدار سلام
اے غریبوں کے غمگسار سلام
اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم
بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے اَرمانِ جمال
طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال
اس طرف بھی اِک نظر اے برقِ تابانِ جمال
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف
رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف
خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ
مہکائے بوئے خلد مرا سر بسر دِماغ
مَدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
عروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع
خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ
عیب کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ
چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
رکھے خاکِ دَرِ دِلدار سے ربط
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ اَنبیا میں مصطفیٰ خاص
جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن کہ ہو اس سے خدا خوش
ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس
جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہوگا کوئی عزیز
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے دَر تمہارا چھوڑ کر
مرحبا عزت و کمالِ حضور
ہے جلالِ خدا جلالِ حضور
اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر
چلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبارِ کارواں ہو کر
ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو تو پسند
ذاتِ والا پہ بار بار دُرود
بار بار اور بے شمار دُرود
سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارہویں تاریخ
جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح
ہوئے زمین و زماں کامیابِ ُحسنِ َملیح
دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
ہر ذَرَّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یاغوث
جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث
ہوتے ہیں کچھ اور ساماں اَلْغِیَاث
باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنانِ اَہلِ بیت
پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت
پردہ اُٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ وِلادت
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت رَوا فاروقِ اعظم سا
بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا
مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا
جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
تو خدا کا خدا ہوا تیرا
دشمن ہے گلے کا ہار آقا
لٹتی ہے مری بہار آقا
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم اِمکاں سے نکالا
یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰی کا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا