Naat Academy Naat Academy
واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روزانہ نعت، درود اور اسلامی مواد

ہوم

سوشل میڈیا پر فالو کریں

Naat Background
Logo
نعت اکیڈمی میں خوش آمدید

حمد و نعت کا عظیم الشان ذخیرہ

حمد، نعت، منقبت اور سلام کا سب سے بڑا اور مستند آن لائن پلیٹ فارم۔

تازہ
بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتُھرا بادل
آستاں ہے یہ احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

تازہ ترین پوسٹس

بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں

حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی عشق و محبتِ رسول ﷺ

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتُھرا بادل

...

آستاں ہے یہ احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

...

نعت گوئی کی تاریخ اور ارتقاء

...

حمد اور نعت میں فرق: ایک تحقیقی جائزہ

...

برصغیر میں نعت گوئی کی روایت

...

عربی نعت گوئی کے اثرات اردو شاعری پر

...

در حضور سے در کوئ بھی بلند نہیں

...

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

امیر مینائ

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

امیر مینائ

اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول

امیر مینائ

ابتداو انتہائے مصطفٰیﷺ

امیر مینائ

تضمین وہ سرورِ کِشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوۓ تھے

...

صحن حرم میں اتری ہے لطف و عطا کی ضو

ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

طرز رضا کی پیروی

ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

مسلکِ اعلیٰ حضرت سلامت رہے

فریدی صدیقی مصباحی

یا خدا چرخِ اسلام پر تا ابد

...

کہاں ہو یا رسول اللہﷺ کہاں ہو؟

دیوانِ سالک

غوثِ اعظم دستگیرِ بے کَساں

دیوانِ سالک

داغِ فرقتِ طیبہ قلب مضمحل جاتا

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائےگا

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

عرش پر ہیں اُن کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

اپنے در پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش ہجرتِ مدینہ منورہ

وہ چھائی گھٹا بادہ بارِ مدینہ

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

ہمارے باغِ ارماں میں بہارِ بے خزاں آئے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

دور اے دل رہیں مدینے سے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

مصطفائے ذاتِ یکتا آپ ہیں

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

بوالہوس سُن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ازہری سفینہ بخشش

خلق پہ لطفِ خدا حضرتِ عثمان ہیں

دیوانِ سالک

نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا

دیوانِ سالک

جن کا لقب ہے صلِّ علیٰ محمدٍﷺ

دیوانِ سالک

یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک

دیوانِ سالک

بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں

دیوانِ سالک

ہے جس کی ساری گفتگو وحیِ خدا یہی تو ہیں

دیوانِ سالک

دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو تیرا شیدائی

دیوانِ سالک

وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے

دیوانِ سالک نعیم الدین مراد آبادی

جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیﷺ میرا دل انہیں پہ نثار ہے

دیوانِ سالک

اے صبا تیرا گزر ہو جو مدینہ میں کبھی

دیوانِ سالک

بہارِ باغِ ایماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں

دیوانِ سالک

صدقہ تم پر ہوں دل و جان آمنہ

دیوانِ سالک

ہے رتبہ اس لئے کونین میں عصمت کا عفت کا

دیوانِ سالک

سر وہ ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کیلئے

دیوانِ سالک

ہو گیا یا غوث میں برباد ہوتے آپ کے

دیوانِ سالک

ہیں میرے پیر لاثانی محی الدین جیلانی

دیوانِ سالک

نہ مجھ کو خدا ، مال و زر چاہیئے

دیوانِ سالک

شہنشاہ زمانہ بابزاراں کروفر آئے

قبالئہ بخشش

احمد کی رِضا خالقِ عالم کی رِضا ہے

قبالئہ بخشش

امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں

قبالئہ بخشش

ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا

قبالئہ بخشش

خدا نے جس کے سرپرتاج رکھا اپنی رحمت کا

قبالئہ بخشش

خدا وند جہاں جب خود ہےپیارا تیری صورت کا

قبالئہ بخشش

بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا

قبالئہ بخشش

ہمارے دل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا

قبالئہ بخشش

کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا

قبالئہ بخشش

بحمداللہ عبداللہ کا نور نظر آیا

قبالئہ بخشش

افلاک سے اونچا ہے ایوان محمد کا

قبالئہ بخشش

غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ

قبالئہ بخشش

نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا

قبالئہ بخشش

سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا

قبالئہ بخشش

وہ ماہ عرب آج کعبہ میں چمکا

قبالئہ بخشش

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

قبالئہ بخشش

درد اپنا دے اس قدر یا رب

قبالئہ بخشش

چودھویں کا چاند ہے روئے حبیب

قبالئہ بخشش

عاشقو ں ورد کرو صلی علیٰ آج کی رات

قبالئہ بخشش

پردہ رخ انور سے جو اٹھا شبِ معراج

قبالئہ بخشش

روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمد

قبالئہ بخشش

ہر شے میں ہے نور رُخ تابان محمد

قبالئہ بخشش

آنکھوں کا تارا نام محمد

قبالئہ بخشش

مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس

قبالئہ بخشش

ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق

قبالئہ بخشش

جان و دل سے تم پہ میری جان قرباں غوث پاک

قبالئہ بخشش

شکر تیرا ہوسکے کس طرح رحمٰن رسول

قبالئہ بخشش

دل میں ہو میرے جائے محمدﷺ

قبالئہ بخشش

جاکے صبا تو کوئے محمد ﷺ

قبالئہ بخشش

اے شہنشاہ مدینہ الصلوٰۃ والسلام

قبالئہ بخشش

دل کہتا ہے ہر وقت صفت ان کی لکھا کر

قبالئہ بخشش

جان و دل یارب ہو قربانِ حبیب کبریا

قبالئہ بخشش

شہ عرش اعلیٰ سلامٌ علیکم

قبالئہ بخشش

ترے جد کی ہے بارہویں غوث اعظم

قبالئہ بخشش

ہے دل کو تری جستجو غوث اعظم

قبالئہ بخشش

نہیں میرے اچھے عمل غوث اعظم

قبالئہ بخشش

حق کے محبوب کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیں

قبالئہ بخشش

اے شکیب جان مضطر رحمۃ للعا لمین

قبالئہ بخشش

میرے مولا میرے سرور رحمۃ للعا لمین

قبالئہ بخشش

ہوا ہے جلوہ نما وہ نگار آنکھوں میں

قبالئہ بخشش

ہم رسول مدنی کو نہ خدا جانتے ہیں

قبالئہ بخشش

عالم میں کیا ہے جس کی کہ تجھ کو خبر نہیں

قبالئہ بخشش

یارسول اللہ آکر دیکھ لو

قبالئہ بخشش

باغ دو عالم دم سے تمہارےہے گلزار رسول اللہ

قبالئہ بخشش

تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یا رسول اللہ

قبالئہ بخشش

کیوں کر نہ ہو مکے سے سوا شان مدینہ

قبالئہ بخشش

یا رب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ

قبالئہ بخشش

کیا لکھوں میں بھلا رسول اللہ

قبالئہ بخشش

کرلو مقبول یا رسول اللہ

قبالئہ بخشش

بیاں ہو کس سے کمال محمد عربی

قبالئہ بخشش

بشر سے غیر ممکن ہے ثنا حضرت محمد کی

قبالئہ بخشش

ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمد کی

قبالئہ بخشش

پہنچوں اگر میں روضۂ انوا ر کے سامنے

قبالئہ بخشش

مچی ہے دھوم تحمید و ثنا کی

قبالئہ بخشش

یہ دل عرش اعظم بنا چاہتا ہے

قبالئہ بخشش

دست قدرت نے عجب صورت بنائی آپ کی

قبالئہ بخشش

حبیب خدا عرش پر جانے والے

قبالئہ بخشش

مدینہ میں بلا اے رہنے والے سبزگنبد کے

قبالئہ بخشش

اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی

قبالئہ بخشش

جو داغِ عشقِ شہ دیں ہیں دل پہ کھائےہوئے

قبالئہ بخشش

مچی ہے دھوم پیمبر کی آمد آمد ہے

قبالئہ بخشش

بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے

قبالئہ بخشش

ہیں مظہر ذات حق رسول اکرم

قبالئہ بخشش

زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا

دیوانِ سالک

خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا

دیوانِ سالک

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں

سامانِ بخشش

نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا

جذباتِ برہان

سیّدی غوث اعظم، سلامٌ علیک

جذباتِ برہان

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا

سامانِ بخشش

کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا

سامانِ بخشش

بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

سامانِ بخشش

آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگا

سامانِ بخشش

میرا گھر غیرت خورشیدِ درخشاں ہوگا

سامانِ بخشش

ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب

سامانِ بخشش

ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عرب

سامانِ بخشش

ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

سامانِ بخشش

تم پر لاکھوں سلام

سامانِ بخشش

صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ

سامانِ بخشش

ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم

سامانِ بخشش

کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظم

سامانِ بخشش

تجلی نور قِدَم غوث اعظم

سامانِ بخشش

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں

سامانِ بخشش

حبیب خدا نظارا کروں میں

سامانِ بخشش

شاہ والا مجھے طیبہ بلا لو

سامانِ بخشش

بہار جانفزا تم ہو، نسیم داستاں تم ہو

سامانِ بخشش

کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو

سامانِ بخشش

کرم جو آپ کا اے سید ابرار ہو جائے

سامانِ بخشش

پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے

سامانِ بخشش

سب کا پیدا کرنے والا مولا میرا مولیٰ میرا مولیٰ

ریاضِ نعیم نعیم الدین مراد آبادی

اے بہارِ زندگی بخشِ مدینہ مرحبا

ریاضِ نعیم نعیم الدین مراد آبادی

نُورِ نگاہِ فاطمہ آسماں جناب

ریاضِ نعیم نعیم الدین مراد آبادی

بحرِ سخاوت صلّی اللہ

جذباتِ برہان

سرکارِ دو  عالم شہہِ بطحا ہے ہمارا

جذباتِ برہان

زباں پہ اس لیے صلِّ علیٰ بے اختیار آیا

جذباتِ برہان

انوار کا نزول ہے ‘ آسماں سے کیا؟

جذباتِ برہان

اے نقشِ نعلِ پاکِ نبیﷺ، یہ تیری وجاہت کیا کہنا

جذباتِ برہان

کلام اللہ شاہد ہے نبی کی شانِ رفعت پر

جذباتِ برہان

نوُرِ حُضور سے بنے، اَرض و فلک الگ الگ

جذباتِ برہان

سُنیں گے وہ، بپا ہے شورِ داروگیر امت میں

جذباتِ برہان

کرم ہے تمہارا عنایت تمہاری

جذباتِ برہان

آقا تمہاری ذات کا دھیان رہ نہ جائے

جذباتِ برہان

تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے

جذباتِ برہان

اے سر و گلستانِ عالم، لاریب تو جانِ عالم ہے

جذباتِ برہان

سرکار کرم، آقائے نعم جو آپ کا بندہ ہوجائے

جذباتِ برہان

سارے عالم میں ہلچل یہ ہونے لگی آج تشریف لاتا ہے ایسا نبی

جذباتِ برہان

سرورِ دنیا و دیں میری مدد فرمائیے

جذباتِ برہان

یَانَبِیْ سَلَامٌ عَلَیْکَ، یَارَسُولْ سَلَامٌ عَلَیْکَ

جذباتِ برہان

غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک

جذباتِ برہان

مظہر سرِّ وحدت پہ لاکھوں سلام

جذباتِ برہان

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

جذباتِ برہان

زباں پراس لئے صلّ علیٰ بے اختیار آیا

جذباتِ برہان

خدا ہے تمہارا ولی غوثِ اعظم

جذباتِ برہان

غوث کے در کو چھوڑ کر غیر کے در پہ جائیں کیوں

جذباتِ برہان

خدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا

قبالئہ بخشش

قبول بندۂ درکا سلام کرلینا

جذباتِ برہان

محمد مصطفیٰ نورِ خدا نامِ خدا تم ہو

بیاضِ پاک

ﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا

ذوقِ نعت

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو

ذوقِ نعت

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

ذوقِ نعت

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

ذوقِ نعت

اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ

سامانِ بخشش

کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا

ذوقِ نعت

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کا

ذوقِ نعت

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا

ذوقِ نعت

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا

ذوقِ نعت

یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا

ذوقِ نعت

اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا

ذوقِ نعت

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

ذوقِ نعت

پرُ نور ہے زمانہ صبح شبِ ولادت

ذوقِ نعت

دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح

ذوقِ نعت

جنابِ مصطفےٰ ہوں جس سے نا خوش

ذوقِ نعت

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف

ذوقِ نعت

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

ذوقِ نعت

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

ذوقِ نعت

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

ذوقِ نعت

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

ذوقِ نعت

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

ذوقِ نعت

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

ذوقِ نعت

کَون میں کَون ہے تو ہی تو، تو ہی تو ہے یَا مَنْ ھُو

بیاضِ پاک

گناہ گاروں کا روزِ محشر شفیع خَیْرُالْاَنَام ہوگا

بیاضِ پاک

اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا

بیاضِ پاک

ہیں عرشِ بریں پر جلوہ فگن محبوبِ خدا سُبْحَانَ اللہ!

بیاضِ پاک

وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا

سامانِ بخشش

پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا

سامانِ بخشش

کن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو

سامانِ بخشش

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند

ذوقِ نعت

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

ذوقِ نعت

مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع

ذوقِ نعت

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ

ذوقِ نعت

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

ذوقِ نعت

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص

ذوقِ نعت

ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس

ذوقِ نعت

جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

ذوقِ نعت

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

ذوقِ نعت

مرحبا عزت و کمالِ حضور

ذوقِ نعت

ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ

ذوقِ نعت

ذاتِ والا پہ بار بار درود

ذوقِ نعت

سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ

ذوقِ نعت

السلام اے خسروِ دنیا و دیں

ذوقِ نعت

جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث

ذوقِ نعت

باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت

ذوقِ نعت

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب

ذوقِ نعت

دردِ دل کر مجھے عطا یا رب

ذوقِ نعت

نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا

ذوقِ نعت

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا

ذوقِ نعت

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میں

ذوقِ نعت

معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا

ذوقِ نعت

چھائے غم کے بادل کالے

ذوقِ نعت

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا

ذوقِ نعت

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلیٰ تیرا

ذوقِ نعت

جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا

ذوقِ نعت

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

ذوقِ نعت

عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا

ذوقِ نعت

اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو

ذوقِ نعت

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی

ذوقِ نعت

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

ذوقِ نعت

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے

ذوقِ نعت

کیا خداداد آپ کی اِمداد ہے

ذوقِ نعت

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

ذوقِ نعت

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

ذوقِ نعت

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

ذوقِ نعت

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

ذوقِ نعت

عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں

ذوقِ نعت

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

ذوقِ نعت

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

ذوقِ نعت

ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

ذوقِ نعت

اے مدینہ کے تاجدار سلام

ذوقِ نعت

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال

ذوقِ نعت

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

ذوقِ نعت

اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم

ذوقِ نعت

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم

ذوقِ نعت

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود

حدائقِ بخشش

مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو

حدائقِ بخشش

مرتضیٰ شیرِ خُدا مَرحَب کُشا خیبر کَشا

حدائقِ بخشش

یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلا

حدائقِ بخشش

زمین و زماں تمھارے لیے مکین و مکاں تمھارے لیے

حدائقِ بخشش

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

حدائقِ بخشش

ایمان ہے قالِ مصطفائی

حدائقِ بخشش

ذرّے جھڑ کر تیری پیزاروں کے

حدائقِ بخشش

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

حدائقِ بخشش

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

حدائقِ بخشش

بکار خویش حیرانم اغثنی یا رسول اللہ

حدائقِ بخشش

لحد میں عشقِ رُخ شہ کا داغ لے کے چلے

حدائقِ بخشش

انبیا کو بھی اجل آنی ہے

حدائقِ بخشش

تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب

حدائقِ بخشش

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا

حدائقِ بخشش

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

حدائقِ بخشش

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا

حدائقِ بخشش

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا

حدائقِ بخشش

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

ذوقِ نعت

سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے

ذوقِ نعت

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

ذوقِ نعت

ﷲ ﷲ شہِ کونین جلالت تیری

ذوقِ نعت

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی

حدائقِ بخشش

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی

حدائقِ بخشش

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

حدائقِ بخشش

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

حدائقِ بخشش

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

حدائقِ بخشش

راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہے

حدائقِ بخشش

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

حدائقِ بخشش

رباعیات

حدائقِ بخشش

سَرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے

حدائقِ بخشش

مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے

حدائقِ بخشش

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

حدائقِ بخشش

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے

حدائقِ بخشش

نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے

حدائقِ بخشش

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے

حدائقِ بخشش

دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

حدائقِ بخشش

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے

حدائقِ بخشش

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

حدائقِ بخشش

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوست

حدائقِ بخشش

طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ

حدائقِ بخشش

زہے عزّت و اعتلائے محمدﷺ

حدائقِ بخشش

اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر

حدائقِ بخشش

گذرے جس راہ سے وہ سیّدِ والا ہو کر

حدائقِ بخشش

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض

حدائقِ بخشش

تمھارے ذرّے کے پرتو ستار ہائے فلک

حدائقِ بخشش

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

حدائقِ بخشش

سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھول

حدائقِ بخشش

ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضُحٰی تِرے چہرۂ نور فزا کی قسم

حدائقِ بخشش

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم

حدائقِ بخشش

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

حدائقِ بخشش

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

حدائقِ بخشش

اُمّتان و سیاہ کاریہا

حدائقِ بخشش

رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں

حدائقِ بخشش

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

حدائقِ برکات

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں

حدائقِ بخشش

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں

حدائقِ بخشش

وصفِ رخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس و ضحیٰ کرتے ہیں

حدائقِ بخشش

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

حدائقِ بخشش

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

حدائقِ بخشش

یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

حدائقِ بخشش

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ

حدائقِ بخشش

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

حدائقِ بخشش

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ

حدائقِ بخشش

اللہ اللہ کے نبی سے

حدائقِ بخشش

یا الٰہی! رحم فرما مصطفیٰ کے واسطے

حدائقِ بخشش

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

حدائقِ بخشش

پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب

حدائقِ بخشش

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا

حدائقِ بخشش

محض رخصت کونہ دیکھو عزیمت خوب کرنے دو

فاران

عشق والے ہیں ہم بس رضا چاہئے

فاران

اللہ کی رحمت کی ردا غوث پیا ہو

فاران

میرے آقا نے جو طیبہ میں بلایا ہوتا

فاران

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

حدائقِ بخشش

رخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

حدائقِ بخشش

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

حدائقِ بخشش

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

حدائقِ بخشش

اے شافعِ تر دامناں وَے چارۂ دردِ نہاں

حدائقِ بخشش

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

حدائقِ بخشش

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖٖ

حدائقِ بخشش

اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْٓ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَا

حدائقِ برکات

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

حدائقِ بخشش

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا

حدائقِ بخشش

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا

حدائقِ بخشش

شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

حدائقِ بخشش

خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا

حدائقِ بخشش

دیدار رب تجھے ہوا تیری الگ ہی شان ہے

فاران

آپﷺ کی آقا شان نِرالی ہر ساعت ہے عالی عالی

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

گئے لامکاں کو چمکتے چمکتے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

زمانے میں نشاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

ہے سارے انبیاء میں آقاﷺ کا نام اونچا

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

یانبیﷺ آپ کا پیارا پیارا حرم

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

آقاﷺ نے بلایا روضے پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

حسیں یہ دور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

باغ میں نرگس ہے خنداں ازنگاہ مصطفی

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

کعبہ سے نور کبریا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

اے میرے ساقیا وہ جام الفت کا عطا کر دیں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

مجھے اے ساقی کوثر عطا کیجے وہ محفل میں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

امام الانبیاءﷺ ایسے نبوت کے بھی خاتم ہیں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

تو ہے سرور میں ہوں کم تر تو کہاں اور میں کہاں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

دل میں اپنے نور بساؤ، آؤ نبیﷺ کی بات کریں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

مومن کی ہر بات بھلی ہے، تیرا میرا رشتہ کیا

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

ذِکْرِ نبیﷺ ہے ذکرُ اللہ، بولو بولو صلی اللہ

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

غوث اعظم مِرے ہر دکھ کا ازالہ کر دیں

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

عِزّو عَظْمَتْ حِلْم و رِفْعَتْ، خواجہ خواجہ میرے خواجہ

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

ہر سمت تجھ میں برکت اقطاب کی زمیں ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

کرم کر اے خدا مجھ پر شہِ ابرارﷺ کے صدقے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

چلو دیکھ لیں وہ حقیقتیں جنہیں دیکھنا بھی مثال ہے

فاران

سارا جگمگ جہاں آپ سے آپ سے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

جہاں میں دھومیں مچی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

حامل رشد و ہدایت تیرا کہنا کیا ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

فضا پُر کیف کیسی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

اے دل! مدام بندۂ آں شہریار باش

نعت محل

چلو مدینے چلو مدینے قدم قدم سے ملا ملا کر

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

ہے میری بس یہی دعا ہے یہی التجا فقط

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

جہاں مل سکے نہ گماں کو رَہ وہ نبیﷺ کا حسن و کمال ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

ہزاروں انبیاء آئے رسول و مجتبی بن کر

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

حبیبِ کُلﷺ جہاں تم ہو دلیل کُنْ فَکاں تم ہو

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے

ابنِ خلیل احمد میاں حافظ البرکاتی حدائقِ برکات

انوار کی بارش ہوتی ہے، ضَو بار گھٹائیں ہوتی ہیں

نعت محل

کونین سے سوا ہے حقیقت رسولﷺ کی

نعت محل

بہر پہلو اذیّت، ہر نفس تکلیفِ روحانی

نعت محل

قصۂ کرب و اذیّت کیا کہوں ، کیوں کر کہوں

نعت محل

ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دے

نعت محل

ہے آج کی صبح نور والی

نعت محل

نوشہ کی کب آتی ہے سواری

نعت محل

جب ایسا حسین حبیب آئے

نعت محل

آیۂ حسنِ بے مثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر

نعت محل

وہ جن کا انتظار آئے، دردو ان پر سلام ان پرﷺ

نعت محل

مشعلِ قبلۂ ارشاد ہیں غوث الثقلین

نعت محل

ہے مُرِیْدیْ لَا تَخَفْ جب اذنِ عامِ غوثِ پاک

نعت محل

مائل بہ کرم چشم ضیا بارِ رضا ہے

نعت محل

فخرِ دین و فخرِ ملّت، سیّدی احمد رضا

نعت محل

بہ فطرتیکہ ادب گاہِ جوہرِ نَسَبی ست

عرشِ ناز

ہموار آ کے حُور و مَلک رہگذر کریں

نعت محل

مرحبا کیا روح پرور ہے نظارا نور کا

نعت محل

مدینے میں ہیں شہر یارِ مدینہ

نعت محل

گلبار داغِ ہجرِ نبیﷺ اس قدر رہے

نعت محل

دل ہے نثارِ سرورِ عالمﷺ

نعت محل

بہاروں کا مرکز دیارِ مدینہ نہ کیوں جنّتیں اس پہ قربان جائیں

نعت محل

عرشِ حق کا شانۂ مہردنیٰ ماہِ مبیں

نعت محل

آئیے تسکینِ جانِ زار کی باتیں کریں

نعت محل

لَیلتہ القَدر سے وَالفَجْر عیاں ہے کہ نہیں

نعت محل

لب پہ اشعار تِرے وصف میں جب آتے ہیں

نعت محل

تھی جن کے نام سے ہلچل جہاں کے تاجداروں میں

نعت محل

کتنی حسیں ہے اُن کے ثناخواں کی گفتگو

نعت محل

زائر ہیں رواں شام و سحر سُوئے مدینہ

نعت محل

ہوتے ہی قیدِ تن سے رہا اپنے گھر گئی

نعت محل

یہ مانا جان اِک دن قیدِ آب و گِل سے نکلے گی

نعت محل

تم پر نثار ہونے کو آئی ھے چاندنی

نعت محل

جو ہیں حبیبِ خالق برتر وہﷺ آگئے

نعت محل

وہ اصل آئینۂ حقیقت، دہ عین حسنِ مجاز آئے

نعت محل

اگر چشمِ بصیرت ہو تو ظاہر ہے یہ قرآں سے

نعت محل

جو ہیں حبیبِ خالقﷺ بر تر وہﷺ آگئے

نعت محل

سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملے

نعت محل

تم کو یدِ قدرت نے کیا خوب سنوارا ہے

نعت محل

یہ عرشِ بریں ہے کہ مدینے کی زمیں ہے

نعت محل

توئی ایں کار پیکِ نامہ بَرکُن

نعت محل

مرحبا صلِّ علیٰ عزمِ کلیمانۂ دل

نعت محل

سلطانِ رسلﷺ سے تابہ خدا، اللہ سے تا سلطانِ رسلﷺ

نعت محل

کِس قدر حسِیں ہم نے مطمحِ نظر پایا

نعت محل

جب محمّدﷺ کا لب پہ نام آیا

نعت محل

ہیں دو عالم زیرِ فرمانِ حبیبِ کبریاﷺ

نعت محل

پاشکستہ تا درِ خیرالانامﷺ آ ہی گیا

نعت محل

ہر تڑپ پر روضۂ پُر نورﷺ ہے دل کے قریب

نعت محل

رب کا محبوب بشر ہے بخدا کون؟ کہ آپﷺ

نعت محل

یوں ہوئی یادِ رخِ محبوب مہمانِ حیات

نعت محل

ہُوں شرمسار فرومائیگی پہ جانِ حیات

نعت محل

ہے صبحِ ازل تابشِ رخسارِ محمّدﷺ

نعت محل

یوسفِ حسنِ عین ذات صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍﷺ

نعت محل

من کہ گدائے تنگدست صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍﷺ

نعت محل

بہشتِ کوچۂ نظر ہے بہارِ نظر

نعت محل

مجرم ہیں شہا! دے گا ہمیں کون اماں اور

نعت محل

سودائے عِشق سرورِ دیں یوں ہو سرفراز

نعت محل

زندگی ہم کو ملی سرورِ ذیشاںﷺ کے طفیل

نعت محل

اے خدا کے حبیبﷺ عرش مقام

نعت محل

نازک یہ بھنویں اُن کی، عارض پہ یہ خال اُن کاﷺ

نعت محل

در پاکِ مصطفیٰﷺ پر اگر ہم بھی آتے جاتے ﷺ

جمالِ خلیل

شراب خلد کی اے دوست گفتگو کیا ہے ﷺ

جمالِ خلیل

کچھ اوجِ بارگاہ مدینہ کروں رقم

جمالِ خلیل

اختر بُرجِ رفعت پہ لاکھوں سلام

نعت محل

لائی صبا پیامِ شہنشاہِ دوسراﷺ

نعت محل

منشائے رب ہیں مقصدِ یزداں ہیں مصطفیٰﷺ

نعت محل

سید المرسلیں ہے ترا مرتبہ، یا نبی مصطفیٰ یا نبی مصطفیٰﷺ

نعت محل

ہے تشنۂ تکِمیل مدینے کی تمنّا

نعت محل

درِ حضورﷺ تَدلّٰی وقار کیا کہنا

نعت محل

عکسِ جمالِ ذات نہ دیکھا تِرے سِوا

نعت محل

اللہ اللہ انتہائے احترامِ مصطفیٰﷺ

نعت محل

تو ہی ذو اقتدار ہے یارب

جمالِ خلیل

کس منہ سے شکر کیجئے پروردگار کا

جمالِ خلیل

کہتے ہیں جس کو عارضِ تاباں حضورﷺ کا

جمالِ خلیل

سلام شوق نسیم بہار کہہ دینا

جمالِ خلیل

تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا

جمالِ خلیل

عیاں ہے جسمِ انور سے دو طرفہ حسن، فطرت کا

جمالِ خلیل

جاکے لا اے عشق بے پایاں قلمدانِ حبیبﷺ

جمالِ خلیل

پانی پانی جوشِش عصیاں ہے ساحل کے قریب

جمالِ خلیل

کوئی جا کر یہ کہہ دے روضۂ محبوبِ سبحاںﷺ پر

جمالِ خلیل

دیارِ طیبہ میں مرنے کی آرزو ہے حضورﷺ

جمالِ خلیل

کھینچتا ہے دل کو پھر شوق گلستانِ رسولﷺ

جمالِ خلیل

خلد میں لاؤں کہاں سے تجھ کو گلزارِ حرم

جمالِ خلیل

نہ کیوں والنجم برلب گل کھلیں گلزارِ مکاں میں

جمالِ خلیل

الہٰی روضۂ خیرالبشر پر میں اگر جاؤں

جمالِ خلیل

آتشِ فرقتِ حضرت کو بجھاتے جائیں

جمالِ خلیل

کھنچا جاتا ہے دل سوئے حرم پوشیدہ پوشیدہ

جمالِ خلیل

زسرتاپا خطاکارم اغثنی یارسول اللہﷺ

جمالِ خلیل

آتی ہے باد صبح جو سرور کے سامنے

جمالِ خلیل

یہ حسرت ہے تمنا بن کے لپٹوں ان کے داماں سے ﷺ

جمالِ خلیل

آغوش میں رحمت کی پہنچوں گر ان کا اشارہ ہوجائے

جمالِ خلیل

 تسلئ دلِ ناشاد فرمائی نہیں جاتی

جمالِ خلیل

اے جذبۂ محبت کچھ جذبِ دل دکھا دے

جمالِ خلیل

غازۂ دین غبارِ رہِ جاناں ہوجائے ﷺ

جمالِ خلیل

فراق مصطفیٰﷺ میں جان و دل کی غیر حالت ہے

جمالِ خلیل

طبل و علم و جاہ نہ زر ڈھونڈ رہا ہوں

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

جہان آب و گل میں کون یہ با کرّوفر آیا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

اے جان جہاں تجھ کو ہے کچھ اس کی خبر بھی

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

کتنی حسیں فضا ہے کتنی حسین سحر ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

شاہ طیبہ دل میں کیا راز نہاں لے کر چلے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

عجب کیا میری قسمت نے اگر معراج پائی ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

سیمائے کفر جبہہ کلیسا جھکا گئی

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ہیں نغمہ سنج ہرسو، ہر طرف شور عنادل ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

شبیر کو سر دے کر اسلام بچانا ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

نور حیدر جو کوفے کو جانے لگا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

مدینے جانے والے دردمندوں کی صدا سن لے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

السلام اے رحمت العالمینﷺ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

السلام اے نعمت حق رحمت رب جلیلﷺ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

سلام عقیدت بروح پاک محبوب رسالتﷺ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

اے باد صبا رک جا دم بھر سن لے تو میری فریاد و فغاں

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

تیرہ بختوں کی ہوگئی معراج

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

اللہ رے تیرے در و دیوار مدینہ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

آج کچھ حد سے فزوں سوز نہانی ہے حضورﷺ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

محمدﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

زہے بخت مل جائے وہ آستانہ

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

کوئے طیبہ کی یاد جب آئے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

غم کے مارو مسکرانے کا زمانہ آگیا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

شجرۂ منظوم سلسلۂ عالیہ قادریہ جلالیہ اشرفیہ

تحائفِ اشرفی حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی

زینتِ دوسرا آئیے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ہیں اشک رواں آنکھ سے دل سوز ہیں نالے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

حقیقی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے مدفن سے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

بے سہاروں کا کوئی سہارا نہیں

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

میرا دردِ جگر کارگر ہوگیا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ادھر نہیں یا اُدھر نہیں ہے نبیﷺ کا جلوہ کدھر نہیں ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

شجرۂ منظوم سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ اشرفیہ

تحائفِ اشرفی حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی

شجرۂ منظوم سلسلۂ چشتیہ نظامیہ فخریہ

تحائفِ اشرفی حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی

شجرۂ منظوم سلسلۂ چشتیہ نظامیہ صفویہ

تحائفِ اشرفی حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی

جہاں جاؤں وہاں نور ہدایت ہو تو کیا کہنا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ضَیائے ماہ نہ خورشید کے جمال میں ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

اس روئے والضحیٰ کی صفا کچھ نہ پوچھئے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ذکر جہاں میں ہم سب پڑ کر کیوں ضائع لمحات کریں

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

وہ مری جان بھی جان کی جان بھی میرا ایمان بھی روح ایمان بھی

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

اس دیارِ قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

میری موت پہ نہ جاؤ مری موت اک گھڑی ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

صرف اتنا ہی نہیں غم سے رہائی مل جائے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

پشیماں نہ ہوں شرمساروں سے کہہ دو

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ہم غریبوں کا آسرا تم ہو

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

ہے شانِ درمصطفیٰﷺ کیا نرالی

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

عروج آسماں کو بھی نہیں خاطر میں لائیں گے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

صبا بصد شان دلربائی ثنائے رب گنگنا رہی ہے

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

صَلِّ عَلٰی کرامتِ پیراہنِ شریف

دیوانِ کافی

مجھ کو تڑپاتا ہے بے حد اَب مدینے کا فراق

دیوانِ کافی

ہوئے پیدا رخِ تنویرِ عالم

دیوانِ کافی

خاصِ محبوبِ خدا ختمِ رسالت پر سلام

دیوانِ کافی

سیّدِ کائنات، خیر الانام

دیوانِ کافی

السلام اے شہ لولاک حبیب یزدان

دیوانِ کافی

امید بوسہ پائے نبی ﷺ میں

دیوانِ کافی

نبی ﷺ مکرم نبی امیں ہیں

دیوانِ کافی

جدھر کو رونق افزا وہ بہار باغ رضوان ہو

دیوانِ کافی

رسول مصطفی تم ہو نبی جن و انساں ہو

دیوانِ کافی

واہ کیا جلوۂ دندان ہے سبحان اللہ

دیوانِ کافی

پیدا ہوئے خیر الوریٰ صلو علیہ و آلہٖ

دیوانِ کافی

اُن کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

کیا جنابِ شہ ابرار ہے سبحان اللہ

دیوانِ کافی

جناب صاحب لولاک کے تو لا کا

دیوانِ کافی

مرجائیے کافی بتولائے مدینہ

دیوانِ کافی

لوائے حمد کا سایا اگر محشر میں سر پر ہے

دیوانِ کافی

کیا صل علی ہمت شاہ عربی ہے

دیوانِ کافی

محبت جس کو ہے آل عبا سے

دیوانِ کافی

مجھے الفت ہے یاران نبی ﷺ سے

دیوانِ کافی

مدیح شاہِ شاہان ہے مرا دیوان اے کافی

دیوانِ کافی

یا نبی یاد تِری دل سے مرے کیوں جائے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

بہرِ دیدارِ مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

جس سے تم روٹھو وہ برگشتۂ دنیا ہو جائے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

زمیں تا چرخِ بریں فرشتے ہر اک نفس کو پکار آئے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

ہے جبیںِ شوق کا بھی دنیا میں اک ٹھکانہ

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

ماہِ مبین و خوش ادا صلِ علیٰ محمد

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

ہو چشمِ عنایت شہِ جیلاں مِرے لیے

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

ہمیشہ جوش پر بحرِ کرم ہے میرے خواجہ کا

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

مدیح نبوی

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

استغاثہ بحضور غوث الاعظم

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

پیار سے تم کو فرشتوں نے جگایا ہوگا

اظہارِ عقیدت علامہ ارشد القادری

عمر ہا جلوۂ او جست نگاہم پیدا

تحائفِ اشرفی حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی

کس لئے فکر کریں حشر کے دن کیا ہوگیا

تجلیاتِ سخن حضور سیّد محمد مدنی اشرفی جیلانی

عرشِ بریں ایوانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

دیوانِ کافی

بدن تھا آپ کا کان تجلی

دیوانِ کافی

اس رخِ پاک کا جس بزم میں چرچا ہوگا

دیوانِ کافی

جو پناہ سیّد کون و مکاں میں آگیا

دیوانِ کافی

احسان و کرم ہم پہ وہ کیا کیا نہیں کرتا

دیوانِ کافی

ہوئے پیدا رسول قدر دان مکہ و بطحیٰ

دیوانِ کافی

بروزِ جزا یا رسول اللّٰہ

دیوانِ کافی

سراپا وہ صلِ علیٰ آپ کا تھا

دیوانِ کافی

ایھاالعشاق شیدائے جناب مصطفیٰ

دیوانِ کافی

چمکا جہاں میں جب مہہ اقبال و مصطفیٰ

دیوانِ کافی

پیدا ہوئے وقتِ سحر حضرت محمد مصطفیٰﷺ

دیوانِ کافی

جس کو عشق سیّد کون و مکاں حاصل ہوا

دیوانِ کافی

مجمع احمدی پھر نعت سنانےآیا

دیوانِ کافی

بال و پر والے گئے اڑ کر مدینے کے قریب

دیوانِ کافی

خدائ کے خالق سردار یارب

دیوانِ کافی

سرت کردم بمیدان شفاعت

دیوانِ کافی

وہ مہر پر ضیامہرِ نبوت

دیوانِ کافی

نبی کی ذات ہے کیا مظہر صلاح و فلاح

دیوانِ کافی

رحمتِ عالم سے ہے ایوانِ جنت کارسوخ

دیوانِ کافی

رخِ حبیبِ خدا ہے دو عالم آرا چاند

دیوانِ کافی

بہار خلد ہے روئے محمدﷺﷺ

دیوانِ کافی

عاصیوں جرم کی دوا ہے درود

دیوانِ کافی

کیا کروں لے کے فقیرانِ جہاں کا تعویذ

دیوانِ کافی

چمن خلد بریں کا عکس ہے روئے محمدﷺکا

دیوانِ کافی

دلِ مشتاق کی ہے آرزو بس

دیوانِ کافی

گُل سے کچھ الفت نہ مجھ کو گلستاں سے اختصاص

دیوانِ کافی

رسولِﷺ مجتبیٰ ہیں صاحبِ حوض

دیوانِ کافی

جب تلک باہم ہو، یا رب! جسم و جاں کا ارتباط

دیوانِ کافی

سنا ہے جب سے اسمِ حضرتِ خیر الوریٰ شافع

دیوانِ کافی

جس کو خدا نے واصفِ خیر الوریٰ کیا

دیوانِ کافی

محمد محمد پکارے چلا جا

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

شجر کا نہ ہجر کا نہ مہہ و خورشید و اختر کا

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

اے نبی پیار سے جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

ہے کام شریروں کا یہ قمر و جفا کرنا

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

زمیں کیا آسماں پر مِرے آقا کی سطوت ہے

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

جس نے مشکل میں کبھی تم کو پکارا ہوگا

ریحانِ بخشش ریحان رضا خان صاحب

خاتم الانبیا ہوئے پیدا

دیوانِ کافی

ہوئے حضرت محمد مصطفیﷺصلِ علی پیدا

دیوانِ کافی

جنابِ فخرِ عالم سیّد سرور ہوئے پیدا

دیوانِ کافی

واہ کیا جلوہء اعجاز تھا آنا جانا

دیوانِ کافی

سر کے بل چاہیے اے اہلِ ولاں یاں آنا

دیوانِ کافی

آنکھوں میں تصوّر ہے مدینے کی زمیں کا

دیوانِ کافی

یہ گلستان تمامی ظہور کثرت کا

دیوانِ کافی

طفیلِ سرورِ عالم ہوا سارا جہاں پیدا

دیوانِ کافی

یادِ سرکارِ طیبہ

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

لن ترانی

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

اور تو کچھ بھی نہیں حسنِ عمل میرے پاس

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جگمگاتی ہے زمانے کی فضا کون آیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

منقبت امام حسین

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

مٹتے ہیں دو عالم کے آزار مدینے میں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

میں بے نیاز ہوں دنیا کے ہر خزانے سے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

سیّدی یا حبیبی مولائ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

خاص رونق ہے سرِ عرش علیٰ آج کی رات

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

سب سے حسیں محبوبِ خدا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تم پر سلام کردگار

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آسمانِ مصطفی کے چاند تاروں پر درود

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

بے کسوں سے ہے جنھیں پیار وہی آئے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دو جہاں میں سلامتی آئ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جس سے دونوں جہاں جگمگانے لگے گود میں آمنہ کے وہ نور آگیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

وہ معلّم وہ اَمّی لقب آگیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ایک ذرّے کو بھی خورشید بناتے دیکھا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

صلوۃُ سلام علی المصطفی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دو عالم کے آقا سلامُ علیکم

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

السلام اے نسبتِ تو تاجِ عشق

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تو حدودِ فکر سے ماوریٰ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ذی قدر تراب الحق,ذی جاہ تراب الحق

فریدی صدیقی مصباحی

مدینہ سامنے ہے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

امام النبیا تم ہو

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

جو ہر شے کی حقیقت ہے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

امام المرسلیں آئے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

ذوقِ عمل

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

وجہ تخلیقِ دو عالم

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

وہ یوں تشریف لائے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

باغِ ارم سے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

کیف ساماں ہے

تحسین رضا خان صاحب گلہائے بخشش

دربارِ نبی میں جھکتے ہی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

حسنِ رسولِ پاک کی تنویر دیکھئے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ تخصیصِ شاہِ اُمم اللّٰہ اللّٰہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جان و دل سے ہوں میں فدائے حضور

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

غمِ فراقِ نبی میں جو اشک بہتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عشقِ خیرالانام رکھتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آجاؤ رحمتوں کے خزینے کے سامنے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر حال میں انھیں کو پکارا جگہ جگہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

بلندیوں پہ ہمارا نصیب آپہنچا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

رسائ ہے مری اس آستاں تک

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہےبے قرار دعا جیسے مدّعا کے بغیر

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

شہِ کونین آئے دو جہاں کا مدّعا بن کر

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آئ بہارِ زیست مقدر سنور گئے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جب کبھی جانبِ سرکارِ مدینہ دیکھا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

حبیبِ حق پہ دل و جاں سے جو نثار ہوئے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اٹھی نظر تو روئے نبی پر ٹھہر گئ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر کلی دل کی مسکرائ ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اعمال کے دامن میں اپنے تقدیس کی دولت لاتے ہیں

...

محمد مصطفیﷺاسمِ گرامی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

قرینے میں ہر اک نظام آگیا ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تو نوازے اگر اے ذوقِ نظارا مجھ کو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آغوشِ تصوّر میں مدینے کی زمیں ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مری ہستی کی زینت آپ کا غم ہو تو کیا کہنا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

سراپا عکس حق روئے مبیں ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

وہ شان پائ کہ نبیوں میں انتخاب ہوئے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ عشقِ نبی اللّٰہ و غنی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عطا کرتی ہے شانِ ماورائ یا رسول اللّٰہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر عیاں میں ہیں نہاں سیّدِ مکّی مدنی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دل میرا یہ کہتا ہے محبوبِ خدا کہیئے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آزردہ آب دیدہ ہوں میں ان کی چاہ میں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اوّلیں آخریں ترے صدقے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جوش میں آگئ رحمتِ کبریا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دل ہے ذکرِ حضور کے صدقے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نقشہ تری گلی کا ہماری نظر میں ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مریضِ ہجر کا مشکل ہے جینا یا رسول اللّٰہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مصطفی مجتبی محمدﷺ ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مرحبا صلِ علی شافعِ عصیاں آئے

...

ہیں اہلِ محبت نغمہ سرا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ترے کرم کا خدائے مجیب کیا کہنا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دونوں عالم میں محمدﷺ کا سہارا مانگو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اہلِ جہاں کو درد کا چارہ نہیں نصیب

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

غم کے بھنور سے کون نکالے ترے سوا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

محمد محمد پکارے چلےجا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر رنگ میں ان کا جلوہ ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

آیا لبوں پہ ذکر جو خیر الانام کا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دعا ہے زندگانی یوں بسر ہو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نشاطِ زندگانی تیرا غم ہے یا رسول اللّٰہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عشقِ حضرت نہیں تو کچھ بھی نہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

راحتِ قلبِ عاشقاں ہیں آپ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

فزوں ہیں رتبے میں شاہانِ ہفت کشور سے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اس کو طوفان بھی کنارا ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مدینے پہ دل فدا ہو رہا ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

میرے لب پر جب ان کا نام آیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اس کی قسمت پہ فدا فرماں روائ ہوگئ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تیرے خیال نے بخشا ہے یہ قرینہ بھی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نگاہوں میں ہےسبز گنبد کا منظر

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ فیض دیکھا ہے سرکار کی نگاہوں کا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جو نسبت شہہ کون و مکاں پہ ہیں نازاں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

بے نیازِ دوجہاں ہوں آپ کا ہونے کے بعد

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دل جھوم اٹھا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نبی کی نسبت سے ہو رہی ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جبینِ شوق ان کے آستانے پر جھکی ہو گی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ آرزو نہیں کہ مجھے سیم و زر ملے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر تڑپ دل کی وجہ سکوں ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ملا ہے عشقِ محمدﷺسے یہ وقار مجھے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر غم سے رہائ پاتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جس طرف ان کی نظر ہوجائے گی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اتنے اوصاف ہیں محمدﷺکے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہر اک جلوہ ہے پنہاں ہمارے سینے میں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اب میری نگاہوں میں تو جچتا نہیں کوئ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تراجلوہ پیشِ نظر رہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

خدائے پاک بھی خود جن پہ بھیجتا ہے درود

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جو غمگسارِغریباں وہ چشمِ ناز نہ ہو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

قافلہ جب کوئ طیبہ کو رواں ہوتا ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

میرے ہر کیف کا ارمان رسولِ عربی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ملا جس کی نسبتوں سے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہے زیست کی بہار دیارِ رسولﷺمیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

با خبرسرِ حقیقت سے وہ بیگانے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

زخم بھر جائیں گے سب چاک گریبانوں کے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

سیرتِ پاک تفسیرِ قرآن ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جس نے نبی کے عشق کوایماں بنا لیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ذرّے ذرّے کی آغوش میں نور ہے یہ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نظر میں جلوہ ہو آٹھوں پہر مدینے کا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

غمِ دنیا سے فارغ زندگی محسوس ہوتی ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اگر حبّ نبی کے جام چھلکائے نہیں جاتے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عشقِ نبی میں آہ پہ مجبور ہوگیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

کوئ مقام نہیں ہے درِ نبی کی طرح

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عشقِ رسولِ پاک میں آنکھ جو اشکبار ہے

قدم قدم سجدے

دل تڑپنے لگا اشک بہنے لگے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جن کا شیوہ ہے بندہ نوازی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہوک اٹھتی ہے جب بھی سینے سے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ کرم یہ بندہ نوازیاں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تمھارا نام لبوں پر ہے دل کو راحت ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

وہ دن قریب ہے کہ مدینے کو جاؤں گا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

رات دن اُن کے کرم کے گیت ہم گاتے رہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جذبہء عشقِ سرکار کام آگیا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اُن پہ سب کچھ نثار کرتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دل ونظر میں بہار آئ

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

کہاں جھکی ہے جبینِ نیاز کیا کہنا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

کر اہتمام بھی ایماں کی روشنی کے لیے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

میں ہوں اُن کے در کا منگتا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

پیکرِ نور کی تنویر کے صدقے جاؤں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نبی کا ذکر مدینے کی بات ہوتی ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

میں میلی تن میلا میرا کرپا کرو سرکار

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

غمِ عشقِ نبیﷺ میں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

شرمِ عصیاں سے اٹھتی نہیں ہے جبیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عشق ہے فِسق چشمِ نم کے بغیر

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

دل مدینے میں رہے جان مدینے میں رہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

بزم ازل میں حسن بہار چمن میں ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

نعت سرور میں اگر لطفِ مناجات نہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ زندگی کا الہٰی نظام ہو جائے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مسکرائیں گے غم کے مارے جب

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

بار بار آپ جو سرکار بلاتے جاتے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مسرور زیرِ لب ہے حرفِ سوال میرا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اسے ڈھونڈتے آئیں گے خود کنارے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جلوے ہی جلوے نگاہوں میں سمٹ آتے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ہے تو بس نامِ محمدﷺہے سہارا اپنا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ میرا قول نہیں یہ تو ہے غفّار کی بات

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

گدائے کوئے حبیب ہوں میں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جب ان کی چشمِ کرم

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مجھے تم اپنی توجہ سے سرفراز کرو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ذوقِ دیدار اسے کیوں نہ ہمارے ڈھونڈے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جنم جنم کے جو پیاسے تھے جام پینے چلے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عمل سے نکہتِ عشقِ رسول پیش کرو

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یا محمدﷺ رخِ حالات بدلنے کے لیے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

ان کا صدقہ قریب و دور ملا

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

کتنے خوش بخت غم کے مارے ہیں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

قربان میں ان کی بخشش کے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

یہ نظر حجاب نہیں رہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

اچھا لگتا ہے یا سب سے اچھا لگتا ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

تمام دنیا جہاں سلامت

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

جمالِ ذات کا آئینہ تیری صورت ہے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

درِ سرکار سے ربط اپنا بڑھاؤ تو سہی

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

کیا ہے ہجر کے احساس نے اداس مجھے

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

مدینہ جو دل میں نہاں ہے تو کیا غم

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

عقل محدود ہے عشق ہے بے کراں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

محو ہوجائیں گے یہ عیب ہمارے لاکھوں

خالد محمود خالد نقشبندی قدم قدم سجدے

Woh sarwar e kishwar e risaalat jo arsh par jalwah gar huwe thay

معجزاتِ رسول ﷺ واقعہ معراج النبی ﷺ

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

امام احمد رضا خان

Roman Urdu Utils

سب دیکھیں
چینل جوائن کریں