بشانِ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت سراپا برکت
مولانا مولوی محمد احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ
اَلذَّاتُ عَنِ الْعُیُوْبِ خَالِیْ
وَالْوَصْفُ مِنَ الْبَیَانِ عَالِیْ
شکستہ حال و شکستہ دل و شکستہ امید
زبانِ شکستہ ہوں باتیں شکستہ کہتا ہوں
نہ کر فکر اے دل وہ کیسے ملیں گے
عنایت کریں گے کرم سے ملیں گے
غریبوں کی حاجت روا کرنے والے
فقیروں کو دولت عطا کرنے والے
عطائیں پوچھئے سرکار کی محتاج سائل سے
اٹھائے ہوں جنہوں نے فیض ان کے بحرِ ساحل سے
پھر جنوں کہتا ہے خود کو پابجولاں دیکھئے
چلیے اُٹھیے اب کے پھر وحشت میں زِنداں دیکھئے
کمالِ حُسن پردہ مستِ نازِ لااُبالی ہے
سنبھل کر اے دلِ مضطر ترا اللّٰہ والی ہے
نہ مرا دردِ ستم کاری و وعدہ شکنی
نہ مرا خوفِ جفا جوئی و عشاق کشی
اے اِبن سعد رے کی حکومت تو کیا ملی
ظلم و جفا کی جلد ہی تجھ کو سزا ملی
رہے گی ناخنِ فرقت کی کب تک سینہ اَفگاری
کرے گی یاس تاکے زخم پر دِل کے نمک باری
زبانِ لال ہے نطقِ خجستہ انشا کی
عجب ہے عاجزی اَفکارِ عرش پیما کی
گُل اَز نزاکتِ لب ہائے دِلربا حاکی
قمر زِ طلعتِ رُخسارِ پُر ضیا حاکی
اَندر دِلم ہوائے تو یاسیدالوریٰ
کونین اَز برائے تو یاسیدالوریٰ
شفیع روزِ محشر اے شہنشاہِ زماں تم ہو
مُقیمِ عرشِ اعلیٰ ہو مَکینِ لامکاں تم ہو
تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو
نہ جاں کو کبھی رَنج سے مخلصی ہو
اے آنکھ اپنے حال پہ اب اَشکبار ہو
اے سر خدا کی راہ میں اب تو نثار ہو
وعدہ پہ بھی نہ جس کے ذرا اعتبار ہو
حیرت یہ ہے کہ اس کا ہمیں اعتبار ہو
داغِ جگر کا حال اگر آشکار ہو
مہرِ منیر مہ کی طرح داغدار ہو
سبزہ ہو فصلِ گل ہو لبِ جوئے یار ہو
وہ مہر مہر سے شبِ مہ ہمکنار ہو
کھول دو سینہ مرا فاتحِ مکہ آکر
کعبۂ دِل سے صنم کھینچ کے کر دو باہر
اُجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو
اُن پہ فدا ہے دِل مرا ناز سے دل میں آئیں تو
اے زائرِ ُکوئے نبی اِتنا تو کر اے مہرباں
اہلِ مَدینہ کو سُنا حالِ نعیمِ خستہ جاں
نہ روزے کہ مغموم و محزوں نہ گریم
نہ شامے کہ من ہمچوں مجنوں نہ گریم
ربِ اَحمد کی قسم اَحمدِ ذِیشاں کی قسم
اپنے آقا کی قسم شاہِ رَسولاں کی قسم
مَرِیْضُ الْحُبِّ یَامَوْلَایَ یَھْوَاکَ
وَ لَا یَغْشِیْہٖ شَیْئٌ غَیْرَ لُقْیَاکَ
چھپ کے پردہ میں آنکھ کے وہ حَسِیْں
دل کے پردہ میں ہوگیا ہے مَکِیں
کبھی تو آ مرے دل میں قرارِ دل ہو کر
کبھی ہو آتشِ غم سرد مشتعل ہو کر
یہ ہجراں و حرماں کے صدمے اَشد
یہ دُوری کے رَنج و اَلم بے عدد
نورِ نگاہِ فاطمۂ آسماں جناب
صبرِ دلِ خدیجۂ پاکِ اِرَم ِقباب
اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْنَا حُسْنًا
بَارَکَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْنَا
شد قبلۂ دِلم چو بہ کعبہ طواف را
پُرنور کرد از رُخِ روشن مَطاف را
سب کا پیدا کرنے والا میرا مولٰی میرا مولٰی
سب سے افضل سب سے اعلٰی میرا مولٰی میرا مولٰی
نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا
یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
اَلسَّلام اے اَحمدَت صِہْر و بَرادر آمدَہ
حمزہ سردارِ شہیداں عَم اَکبر آمدَہ
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
غازۂ رُوئے قمر دُودِ چراغانِ عرب
دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نِرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے
اے بَدَورِ خود امامِ اہلِ اِیقاں آمدَہ
جانِ اِنس و جانِ جانّ و جانِ جاناں آمدَہ
جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
خُلد کا نام نہ لے بُلبلِ شیدائی دوست