Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Manqabat

Manqabat woh manzoom kalaam hai jo Sahaba-e-Kiram, Ahl-e-Bait-e-Athar, Awliya-e-Kiram, Mashayikh aur buzurgan-e-deen ke fazail, seerat aur roohani maqamat ke bayan mein likha jata hai.

جو خلیل زار کو اعزاز بخشا آپ نے

پھولتا پھلتا رہے گا باغِ مارہرہ مدام

بارک اللہ فیضِ عامِ حضرتِ اچھے میاں

پھیکی پھیکی سی ہے ساقی، صبح و شامِ زندگی

التفاتِ جلوۂ غوث الوریٰ سے مُنسلِک

لختِ دل ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ضو سے باغ باغ

نور آنکھوں کو ملا خلوت گہِ دل کو سرور

مصطفیٰ کی بھینی بھینی نگہتوں میں تہِ بہَ تہِ

قربِ حق کی منزلوں میں گم نہ ہوں کیوں رفعتیں

سایۂ قصرِ دنیٰ میں منزلت پایا ہوا

اللہ اللہ نو بہار عظمتِ احمد رضا

حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوئے ما

اخترِ عاصیِ کو نظّارہ ہو طیبہ کا نصیب

ہُوں اِسی در کا بھکاری، ہُوں اسی دَر کا غلام

کلکِ انور کی جواہر ریزیوں سے پھر حضور

ہے یہ مدّت سے پریشان حال مدّاحِ حبیب

ہم گئے گزرے ہووں کو شان و شوکت ہو نصیب

آئیے بھٹکے ہوؤں کی رہبری فرمائیے

کس سے پوچھیں کون بتلائے، کہاں جائیں غلام

لایئے تشریف تربت سے قلم در کف حضور

الغرض کوئی ہمارا اب نہیں پُرسانِ حال

تنگ آکر آج اِن ہمّت شِکن حالات سے

دینے والے درس نظم و ضبط ہیں خود منتشر

دینِ حق پر مٹنے والے جاہ پر مِٹنے لگے

الغیاث اے مہرِ طلعت، سیّدی احمد رضا

چھا رہی ہے ہر طرف کفر و ضلالت کی گھٹا

کعبۂ اہلِ طریقت، سیّدی احمد رضا

فخرِ دین و فخرِ ملّت، سیّدی احمد رضا

جلوۂ مصطفیٰ ہے نظر سے قریب، عام ہے دعوتِ سوزِ عشق حبیب

تابہ کئے یہ خلش اور دردِ جگر، تابہ کَے ٹھوکریں کھاؤں میں دَر بہ دَر

عَلَمِ عظمتِ شاہِ دیں کو لئے، اللہ اللہ وہ معرکے سَر کئے

ذاتِ والا ہے سر تا پا بحر العلوم، اک عجم کیا زمانے میں ہے جس کی دھوم

اہلِ سنت کا ہے خلد برکف چمن، کیوں اٹھائیں بھلا ہم خزاں کے مِحَن

عشقِ ماہِ مدینہ کے انوار کا، چاند روئے درخشانِ احمد رضا

مِل رہا ہے شہِ دیں کا صدقہ یہاں، بٹ رہا ہے مدینے کا باڑا یہاں

پھر بریلی کی جانب سے بادل اُٹھے، ہو مبارک غلامانِ احمد رضا

آگیا روزِ عیدِ وصالِ حبیب، مژدہ اے مَیگسارانِ احمد رضا

ہے یہ فیضِ حضرت مفتی خلیل قادری

ان کو حافظ کیا کہے جو شکل مرشد بن گئے

کل جہاں کہنے لگا ہے اعلیٰ حضرت آپ کو

قادری ہوں، سہروردی، نقشبندی چشتیہ

ہاں یہی چشم و چراغِ محفلِ برکات ہیں

آپ کی علمی جلالت دشمنوں پہ چھا گئی

آپ نے عشق نبی کا وہ پڑھایا ہے سبق

آپ کے نوری قلم نے وہ سیاہی پھیر دی

آپ نے ہم کو سنبھالا سیدی احمد رضا

ذہن و دل، فکر و نظر، روشن سے روشن ہوگئے

آپ کا عرفاں دوبالا سیدی احمد رضا

زندہ باد اے سیّدی سردار احمد زندہ باد

خاص عشقِ مصطفیٰ کی بھیک مِلتی ہے یہاں