Saman-e-Bakhshish
سامانِ بَخشِش
Index / Fehrist
کلام کی فہرستکیسے کاٹوں رَتیاں صابر
تارے ِگنت ہوں سیاں صابر
کفشِ پا اُن کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت
خاکِ پا اُن کی مَلوں منہ پہ تو پاؤں طَلعَت
بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
تیری آمد ہے موت آئی ہے
جانِ عیسیٰ تیری دُہائی ہے
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے
تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے
تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو
شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں
ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں
رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم
ضیائے سراج الظلم غوثِ اعظم
کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم
مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم
ترا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم
ترا چہرہ اِیماں فزا غوثِ اعظم
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
اعلیٰ سے اعلیٰ رِفعت والے بالا سے بالا عظمت والے
سب سے برتر عزت والے صَلَّی اللہُ صَلَّی اللہ
تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
سب سے اَعلیٰ عزت والے غلبہ و قہر و طاقت والے
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رَنج و اَلم کی صورت
ہے تم سے عالم پرضیا ماہِ عجم مہرِ عرب
دے دو میرے دل کو جلا ماہِ عجم مہرِ عرب
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے اَنبیا مہرِ عجم ماہِ عرب
میرا گھر غیرتِ خورشیدِ دَرخشاں ہوگا
خیر سے جانِ قمر جب کبھی مہماں ہوگا
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
کبھی دِل جلوہ گہ سروَرِ خوباں ہوگا
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا
مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا
پڑھوں وہ مَطلعِ نوری ثنائے مہرِ اَنور کا
ہو جس سے قلب روشن جیسے مَطلع مہرِ محشر کا
لَا مَوجُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَشْھُوْدَ اِلَّا اللہ
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ
اللہ اللہ اللہ اللہ
قلب کو اُس کی رُویت کی ہے آرزو
More Books
Diwan-e-Salik
دِیوانِ سالک
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Bayaz-e-Pak Hujjat-ul-Islam
بیاضِ پاک حُجَّۃُالاسلام
Hujjat-ul-Islam Maulana Shah Muhammad Hamid Raza Khan Qadri Razvi Noori
Hadaiq-e-Bakhshish
حدائق بخشش
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Qabala-e-Bakhshish
قَبالَۂ بَخشِش
Maulana Muhammad Jameel-ur-Rehman Razvi