نہ کر فکر اے دل وہ کیسے ملیں گے
عنایت کریں گے کرم سے ملیں گے
رہے گی ناخنِ فرقت کی کب تک سینہ اَفگاری
کرے گی یاس تاکے زخم پر دِل کے نمک باری
کھول دو سینہ مرا فاتحِ مکہ آکر
کعبۂ دِل سے صنم کھینچ کے کر دو باہر
اُجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو
اُن پہ فدا ہے دِل مرا ناز سے دل میں آئیں تو
اے زائرِ ُکوئے نبی اِتنا تو کر اے مہرباں
اہلِ مَدینہ کو سُنا حالِ نعیمِ خستہ جاں
اے بہارِ زندگی بخشِ مَدینہ مرحبا
اے فضائے جانفزائے باغِ طیبہ مرحبا
ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شِیریں مَقالی ہاتھ میں
نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے
نبی راز دارِ مَعَ اللہ لِی ہے
پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو
ہاں شَرع کا البتہ ہے جُنْبہ مجھ کو
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں
نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے
نہ لطف اُدْنُ یَا اَحْمَدنصیب لَنْ تَرَانِیہے
واہ کیاجُود و کرم ہے شَہِ بَطْحا تیرا
نہیں ُسنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں
اُن کی ہم مَدْح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں
سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے
گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جَد اَعلیٰ ہے ہمارا
چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
حُور بڑھ کر شِکن ناز پہ وارے گیسو
حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا
نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا
یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو
پھر دِکھا دے وہ رُخ اے مہرِ فروزاں ! ہم کو
شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے
لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍمثلِ تو نہ شُد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے تجھ کو شہ دَوسَرا جانا
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا
حضورِ خاکِ مَدینہ خمیدہ ہونا تھا
پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جِبریل پر بِچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
ساقی میں ترے صدقے مے دے رمضاں آیا
کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیز گاری واہ واہ
کعبہ کے بَدرالدُّجی تم پہ کروروں درود
طیبہ کے شمس الضحی تم پہ کروروں درود
خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا
تمہارے کُوچہ سے رُخصت کیا نہال کیا
رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا
دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے
شاہِ بَرَکات اے ابُو البرکات اے سلطانِ جُود
بَارَکَ اللہ اے مبارک بادشا امداد کن
گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر
رہ گئی ساری زَمیں عَنْبرِ سارا ہو کر
قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی
مشکل آسان الہٰی مری تنہائی کی
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد نَجْدِیا پھر تجھ کو کیا
کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پامال جلوۂ کفِ پا ہے جمَالِ گل
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے
وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو تِرا آستاں بتایا
سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول
لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول
آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
لَحد میں عشقِ رخِ شہ کاداغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لیکے چلے
رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں
ذرّہ تِرا جو اے شہِ گَردُوں جناب ہُوں
کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے
قصیدۃ مجیدۃ مقبولۃ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰیفی منقبتِ سیِّدنا الغوث الاعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطلعِ تَشبیب و ذکرِ عاشق شُدَنِ حبیب
اَیْکِہ صَد جاں بَستہ در ہر گوشۂ داماں توئی
یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بِٹھائے بدنصیب سر پہ بلا اُٹھائی کیوں