ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
یانبی سب ہے تمہاری رونق
عرش و کرسی ہے تمہیں سے روشن
فرش پر بھی ہے تمہاری رونق
دیکھیں طیبہ کو تو رضواں کہہ دیں
ہم نے دیکھی نہیں ایسی رونق
خلد و اَفلاک مزین ہیں سبھی
پھر ہے طیبہ کی نرالی رونق
حور و غلماں مَلک و جن و بشر
ہے یہ سب آپ کے دم کی رونق
تم نہیں تھے تو نہیں تھا کچھ بھی
تم نہ ہوتے تو نہ ہوتی رونق
میں ہوں محبوبِ خدا کا مَدَّاح
میری تربت پہ بھی ہوگی رونق
ایک دن چل کے جمیلؔ رَضوی
دیکھیے اُن کی گلی کی رونق
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
جس کو دیکھو وہ اِسی دَر پہ چلا آتا ہے
بھیڑ ہے شاہ و گدا کی دَرِ سرکار کے پاس
بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں
سب خزانے ہیں مرے مَالک و مختار کے پاس