دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
مُلحِدوں کی کیا مروَّت کیجیے
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں
جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا
کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا
وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا
دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا
ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا
شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا
اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری
سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارہویں تاریخ
دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
ہر ذَرَّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت
پردہ اُٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ وِلادت
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم