کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے
ہر طرف دِیدۂ حیرت زَدہ تکتا کیا ہے
اے اِمامُ الہدیٰ محب رسول
دین کے مقتدا محب رسول
وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں
تیرے دِن اے بہار پِھرتے ہیں
اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے
مرحبا آتشِ دوزخ سے بچانے والے
فقیر قادری سگِ بارگاہ رضوی محمد ابراہیم خوشتر صدیقی
غَفرلَہ المَولی القَویخانقاہ قادریہ رضویہ ڈربن جنوبی افریقہ
شاہد گل ہے مَست ناز حجلۂ نَوبہار میں
ناز و اَدا کے پھول ہیں پھولے گلے کے ہار میں
گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
دلہن شفاعت بنے گی دولہا نبی عَلَیہ السَّلَام ہو گا
اَلوَداع اے سبز ُگنبد کے مکیں
الفراق اے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیں
کہاں ہو یَا رَسُوْلَ اللہ کہاں ہو
مری آنکھوں سے کیوں ایسے نہاں ہو
گوشِ دِل سے مومنو سن لو ذرا
ہے یہ ِقصہ فاطمہ کے عقد کا
جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو
جس میں نبی کو دیکھا وہ شیشہ تم ہی تو ہو
بہارِ باغِ اِیماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
چراغِ بزمِ عرفاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم
تو ہی کرم کردے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم
اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی
جانا اس ُگنبد خضرا میں کہ ہیں جس میں نبی
جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیٰ میرا دِل اُنہیں پہ نثار ہے
مرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گر کہ مدینہ جن کا دِیار ہے
دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی
اورآنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں
جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں
یَا نَبِیْ سَلَامٌ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلْ سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَا حَبِیْب سَلَامٌ عَلَیْکَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْکَ
خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا
ہیں مظہرِ ذاتِ حق رسولِ اَکرم
مختار و خلیفۂ خدائے عالم
آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
رہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری
یَا نَبِی سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَارَسُوْل سَلَامٌ عَلَیْک
تری مدح خواں ہر زباں غوثِ اعظم
ترا نام مومن کی جاں غوثِ اعظم
تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
ملی ہے تجھے گیارہویں غوثِ اعظم
شہِ عرشِ اعلیٰ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
حبیبِ خدایا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
اے شہنشاہِ مدینہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
زینتِ عرشِ مُعلّٰی اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کیا لکھوں عز و علائے غوثِ پاک
ہو نہیں سکتی ثنائے غوثِ پاک
ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
یانبی سب ہے تمہاری رونق
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
اُس کو کب ہو گل و گلزار عزیز
ہیں مَدینے کے جسے خار عزیز
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستانِ محمد
روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد
ذِکر حضورِ پاک ہے میرے لیے غذائے رُوح
قلب کا چین اسی سے ہے کہیے اسے دَوائے رُوح
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈَنکا غوث کا
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا
نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
کب ترے دَر سے کوئی لوٹ کے بے داد آیا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
شاہا دوجہاں میں ہے شہرہ تری رحمت کا
ہر ذَرَّہ ثنا خواں ہے مولیٰ تری رِفعت کا