جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰی کا
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے
مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو
شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں
ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں
ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رَنج و اَلم کی صورت
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
کبھی دِل جلوہ گہ سروَرِ خوباں ہوگا
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا
مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا