Istighasa
Kahan Ho Ya Rasoolallah Kahan Ho
کہاں ہو یَا رَسُوْلَ اللہ کہاں ہو
Urdu Kalam
مطلع
کہاں ہو یَا رَسُوْلَ اللہ کہاں ہو
مری آنکھوں سے کیوں ایسے نہاں ہو
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو دَر دَر
مرے آقا مجھے چھوڑا ہے کس پر
اگر میں خواب میں دِیدار پاؤں
لپٹ قدموں سے بس قربان جاؤں
تمنا ہے تمہارے دیکھنے کی
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی نیکی
بسو دل میں سما جاؤ نظر میں
ذرا آجاؤ اس ویرانہ گھر میں
بنادو میرے سینہ کو مَدینہ
نکالو بحرِ غم سے یہ سفینہ
چھڑا لو غیر سے اپنا بناؤ
ہیں سب اچھوں کے بد کو تم نبھاؤ
مری بگڑی ہوئی حالت بنادو
مری سوئی ہوئی قسمت جگادو
تمہارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں
ہمارے آپ ہی اِک آسرا ہیں
کھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو
دیا آرام مجھ گندے بشر کو
نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ
کٹھن منزل تمہارا ہے بھروسہ
کھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر
رہے پردہ مرا محبوبِ داوَر
مقطع
میں بے زَر ، بے ہنر ، بے پَر ہوں سالکؔ
مگر اُن کا ہوں وہ ہیں میرے مالک
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Radif
و
Total Ashaar
13
Total Misra
26
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik