Istighasa
Aye saba tera guzar ho jo madina mein kabhi
اے صبا تیرا گزر ہو جو مدینہ میں کبھی
Urdu Kalam
مطلع
اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی
جانا اس ُگنبد خضرا میں کہ ہیں جس میں نبی
ہاتھ سے اپنے پکڑ کر وہ سنہری جالی
عرض کرنا میری جانب سے بصد شوقِ دِلی
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
عمر ساری تو کٹی لہو و لعب میں آقا
زندگی کا کوئی لمحہ نہیں اچھا گزرا
سارے اَعمال سیہ جرم سے دفتر ہے بھرا
آرزو ہے کہ گناہوں کا ہو یوں کفارا
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
عرض کرنا کہ کہاں مجھ سا کمینہ گندہ
اور وہ شہر کہاں جس میں ہوں محبوبِ خدا
ہاں سنا ہے کہ نبھاتے ہیں بُروں کو مولا
اس لیے آپ کے دروازے پہ دیتا ہے صدا
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
آرزو دِل کی ہے جب بند ہو حرکت دِل کی
آنکھ پتھرائے مجھے آئے اَخیری ہچکی
روح جانے لگے جب چھوڑ کے جسمِ خاکی
جسم طیبہ میں ہو اور جان چلے سوئے نبی
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
یا نبی اس کے سوا اور میں کیا عرض کروں
آپ کا ہو کے جیوں آپ کا ہو کر ہی مروں
آپ کے دَر سے پَلا آپ کے دَر پر ہی مِٹوں
جان تم سے ملی تم پر ہی نچھاور کردوں
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
گر مُیَسر نہیں سالکؔ کو حضورِ بدنی
روح حاضر ہے مگر مثلِ اُویسِ قرنی
جسم ہندی ہے مرا جان ہے میری مدنی
یا خدا دور کسی طرح ہو بعد بدنی
مقطع
ہے تمنا یہ خدا سے کہ رسولِ عربی
اپنی آنکھوں کو ملوں آپ کی چوکھٹ سے نبی
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhram Makfuf Mahzuf
Radif
ی
Total Ashaar
6
Total Misra
36
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik