Istighasa
Jinhain khalq kehti hai Mustafa mera dil unhi pe nisar hai
جنہیں خلق کہتی ہے مصطفٰی
Urdu Kalam
مطلع
جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیٰ میرا دِل اُنہیں پہ نثار ہے
مرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گر کہ مدینہ جن کا دِیار ہے
ہے جہاں میں جنکی چمک دَمک ہے چمن میں جنکی چہل پہل
وہ ہی اِک مدینہ کے چاند ہیں سب انہیں کے دَم کی بہار ہے
وہ جھلک دِکھا کے چلے گئے میرے دل کا چین بھی لے گئے
میری رُوح ساتھ نہ کیوں گئی مجھے اب تو زندگی بار ہے
وہی موت ہے وہی زندگی جو خدا نصیب کرے مجھے
کہ مرے تو ان ہی کے نام پر جو جئے تو ان پہ نثار ہے
وہ ہے آنکھ جس کے یہ نور ہیں وہ ہے دل یہ جس کے سرور ہیں
وہ ہی تن ہے جس کی یہ روح ہیں وہ ہے جاںجو اُن پہ نثار ہے
جوکرم سے اپنے شہِ اُمم رکھیں مجھ غریب کے گھر قدم
مرے شاہ کی نہ ہو شان کم کہ گدا پر ان کا تو پیار ہے
وَلے اس غریب کا خُم کدہ بنے رشکِ خلد بریں شہا
کرے ناز اپنے نصیب پر بنے شاہ وہ جو گنوار ہے
مقطع
دَمِ نزع سالکِؔ بے نوا کو دِکھانا شکلِ خدا نما
کہ قدم پہ آپ کے نکلے دَم بس اسی پہ دَارو مدار ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Radif
ے
Total Ashaar
8
Total Misra
16
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik