Hamd
Wo maah-e-Arab aaj Kaaba mein chamka
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
Urdu Kalam
مطلع
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا
نہ ہوتا اگر وہ تو کچھ بھی نہ ہوتا
یہ جلوہ ہے عالم میں سب اس کے دم کا
ہوا اس طرف رحمت حق کا دورہ
جدھر ہوگیا ایک پھیرا کرم کا
میں اس عدل و انصاف و رحمت کے قرباں
مٹا نام عالم سے ظلم و ستم کا
کیا سارے عالم کو سرشارِ وَحدت
اُٹھا دَور دنیا سے کفر و صنم کا
ملی ہم کو اِسلام و اِیماں کی دولت
یہ ہے فیض سب تیرے جودِ اَتم کا
ہے کافی ہمارے لیے دو جہاں میں
اِشارہ فقط تیری چشمِ کرم کا
عرب والے آقا کی دی جب دُہائی
اسی دَم ہوا رنگ فق ہر اَلم کا
یہاں پر لحد میں قیامت میں پل پر
سہارا ہے بس اِک شفیعُ الامم کا
عرب کے قمر مجھ کو صورت دکھادو
میں دنیا میں مہمان ہوں کوئی دَم کا
خدا نے انہیں لامکاں میں بلایا
بیاں کس سے ہو اُن کے جاہ و حشم کا
جو رِضواں مَدینے کو دیکھیں تو کہہ دیں
کہ نقشہ ہے بالکل یہ باغِ اِرَم کا
ترے علم و سمع و بصیرت کا منکر
وَہابی ہے کم بخت اَندھا جنم کا
کہے شرک جس کو اسی میں ہو شامل
اَدَھرمی ہے کیا ٹھیک تیرے دَھرم کا
مقطع
جمیلؔ اپنے آقا کا مِدحت سرا ہے
کرم ہے رضا کی نگاہِ کرم کا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Kamil
Radif
ا
Total Ashaar
15
Total Misra
30
Writer
Maulana Muhammad Jameel-ur-Rehman Razvi
Book
Qabala-e-Bakhshish