Istighasa
Zamana ne zamana mein sakhi aisa kahin dekha
زما نہ نے زما نہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
Urdu Kalam
مطلع
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا
مصیبت میں جو کام آئے گنہگاروں کو بخشائے
وہ اِک فخرِ رُسل محبوبِ رَبّ الْعَالَمِیْں دیکھا
بنایا جس نے بگڑوں کو سنبھالا جس نے گرتوں کو
وہ ہی حَلَّالِ مشکل رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْں دیکھا
وہ ہادی جس نے دنیا کو خدا والا بنا ڈالا
دِلوں کو جس نے چمکایا عرب کا مہ جبیں دیکھا
بسے جو فرش پر اور عرش تک اس کی حکومت ہو
وہ سلطانِ جہاں طیبہ کا اِک ناقہ نشیں دیکھا
وہ آقا جو کہ خود کھائے کھجوریں اور غلامو ں کو
کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا
بھلا عالم سی شے مخفی رہے اس چشمِ حق بیں سے
کہ جس نے خالقِ عالم کو بے شک بالیقیں دیکھا
مسلمانی کا دعویٰ اور پھر توہین سروَر کی
زمانہ نے زمانہ بھر میں کب ایسا لعیں دیکھا
مقطع
ہو لب پر اُمتی جس کے کہیں جب اَنبیا نفسی
دوعالم نے اُسے سالکؔ شَفِیعُ الْمُذْنِبِیْں دیکھا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhram Makfuf Mahzuf
Radif
ا
Total Ashaar
9
Total Misra
18
Writer
Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi
Book
Diwan-e-Salik