Hamd
Mujh ko pahuncha de khuda Ahmad-e-Mukhtar ke paas
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
Urdu Kalam
مطلع
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
جس کو دیکھو وہ اِسی دَر پہ چلا آتا ہے
بھیڑ ہے شاہ و گدا کی دَرِ سرکار کے پاس
بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں
سب خزانے ہیں مرے مَالک و مختار کے پاس
دولت و فضل و کرم نعمت و جاہ و اِقبال
کونسی چیز نہیں ہے مرے سرکار کے پاس
بادشاہانِ جہاں دَست نگر ہیں ان کے
ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں دَربار کے پاس
یہ محبت ہے کہ آوازِ اَغِثْنِی سن کر
دوڑے آتے ہیں وہ ہر ایک گرفتار کے پاس
دل پہ کندہ ہے ترا اِسمِ گرامی شاہا
زہد و طاعت سے نہیں کچھ بھی گہنگار کے پاس
یا خدا حشر ہے یا عید ہے مشتاقوں کی
کہ چلے آتے ہیں وہ طالب دِیدار کے پاس
یارسولِ عربی میری شفاعت کرنا
پیش اَعمال ہوں جب واحدِ قہار کے پاس
دیکھ کر روضۂ پرنور کو ایسا تڑپوں
دم نکل جائے مرا آپ کی دیوار کے پاس
مقطع
ہے شہیدی کی طرح عرضِ جمیلؔ رَضوی
میری تربت بھی بنے آپ کی دیوار کے پاس
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Muzare Musamman Akhram Makfuf Mahzuf
Radif
س
Total Ashaar
11
Total Misra
22
Writer
Maulana Muhammad Jameel-ur-Rehman Razvi
Book
Qabala-e-Bakhshish