تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو
سن لو میری اِلتجا اچھے میاں
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں
کہ نااُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
تمہیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ اِمکاں میں
کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں
اپنے سرکار کے دَربار کو کیونکر دیکھیں
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لئے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں
اَسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم
فقیروں کے حاجت رَوا غوثِ اعظم
اللہ برائے غوثِ اعظم
دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم
جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہند بد اَختر سے ہم
تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم
اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم
بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے اَرمانِ جمال
طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال
اس طرف بھی اِک نظر اے برقِ تابانِ جمال
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف
رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف
خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ
مہکائے بوئے خلد مرا سر بسر دِماغ
مَدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
عروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع
خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ
عیب کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ
چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
رکھے خاکِ دَرِ دِلدار سے ربط
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ اَنبیا میں مصطفیٰ خاص
جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن کہ ہو اس سے خدا خوش
ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس
جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہوگا کوئی عزیز
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے دَر تمہارا چھوڑ کر
اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر
چلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبارِ کارواں ہو کر
ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو تو پسند
ذاتِ والا پہ بار بار دُرود
بار بار اور بے شمار دُرود
سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارہویں تاریخ
جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح
ہوئے زمین و زماں کامیابِ ُحسنِ َملیح
دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
ہر ذَرَّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یاغوث
جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث
ہوتے ہیں کچھ اور ساماں اَلْغِیَاث
باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنانِ اَہلِ بیت
پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت
پردہ اُٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ وِلادت
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت رَوا فاروقِ اعظم سا