Naat Academy Naat Academy
Get App WhatsApp
Naat Academy

Archives: Kalaam

465 entries in this collection.

Hamd

کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا

وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا

Istighasa

جان و دِل یارب ہو قربانِ حبیبِ کبریا

اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیبِ کبریا

Hamd

کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا

وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا

Hamd

ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا

ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا

Hamd

خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا

نہ پہچانا کسی نے آج تک رُتبہ محمد کا

Hamd

وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا

اللہ بھی ہے طالبِ دِیدار تمہارا

Istighasa

بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا

کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا

Hamd

خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا

تو عالم کیوں نہ ہو بندہ ترے حسن و مَلاحت کا

Istighasa

خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا

دُرُود اُس پر ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رِسالت کا

Istighasa

دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا

ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا

Hamd

ہے ذِکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا

میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا

Hamd

قبول بندۂ دَر کا سلام کرلینا

سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا

Hamd

کفشِ پا اُن کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت

خاکِ پا اُن کی مَلوں منہ پہ تو پاؤں طَلعَت

Hamd

بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا

Salam

نعتِ َحسن آمدہ نعتِ حسن

حسن رضا باد بزیں سلام

Hamd

شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا

اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا

Hamd

شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین

جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا

Hamd

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول

Naat

ہوگیا ختم یہ رسالہ آج

شکر خالق کریں نہ کیونکر ہم

Naat

یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج

اِنعام کچھ اس کا مجھے اے بحرِ سخا دو

Naat

اچھے کے پیارے میرے سہارے

باہر ہیں بیاں سے اُن کے مناقب

Naat

جُبِّ آلِ رسول بحرِ عرفاں

رونق دہ خاندانِ برکات

Hamd

حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا

جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو

Rubaiyat

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو

مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو

Hamd

اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں

اَلسَّلَام اے راحت جانِ حزیں

Hamd

ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار

گواہ ہیں دلِ مخزون و چشمِ دَریا بار

Hamd

اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا

اَخترِ برجِ سخاوَت گوہر دُرجِ عطا

Munajat

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے

Hamd

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

Hamd

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی

Hamd

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے

Hamd

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے

Hamd

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے

Hamd

اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

Hamd

تم ہو حسرت نکالنے والے

نامرادوں کے پالنے والے

Hamd

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

مِرے دِل میں چین آئے تو اسے قرار آئے

Hamd

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے

Hamd

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

صدقے جاؤں میں تری اَنجمن آرائی کے

Hamd

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

بھرے زخم دل کے مَلاحت کسی کی

Hamd

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے

Hamd

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

کہ آج رُک رُک کے خونِ دِل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے

Hamd

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دَوا لے

Hamd

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے

Hamd

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے

Hamd

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

آپ اپنے پہ قیامت کرلی

Hamd

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقت ان کی

Hamd

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے

Hamd

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے

Munajat

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ

Hamd

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو