بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا
مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا
جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم اِمکاں سے نکالا
یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰی کا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا
دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
تیری آمد ہے موت آئی ہے
جانِ عیسیٰ تیری دُہائی ہے
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے
تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے
تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو
شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں
ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں
رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم
ضیائے سراج الظلم غوثِ اعظم
کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم
مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم
ترا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم
ترا چہرہ اِیماں فزا غوثِ اعظم
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
اعلیٰ سے اعلیٰ رِفعت والے بالا سے بالا عظمت والے
سب سے برتر عزت والے صَلَّی اللہُ صَلَّی اللہ
تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
سب سے اَعلیٰ عزت والے غلبہ و قہر و طاقت والے