جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہوگا کوئی عزیز
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے دَر تمہارا چھوڑ کر
سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارہویں تاریخ
جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح
ہوئے زمین و زماں کامیابِ ُحسنِ َملیح
کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج
جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث
ہوتے ہیں کچھ اور ساماں اَلْغِیَاث
باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنانِ اَہلِ بیت
پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت
پردہ اُٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ وِلادت
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا
مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا
جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم اِمکاں سے نکالا
یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰی کا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو
شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رَنج و اَلم کی صورت
ہے تم سے عالم پرضیا ماہِ عجم مہرِ عرب
دے دو میرے دل کو جلا ماہِ عجم مہرِ عرب
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے اَنبیا مہرِ عجم ماہِ عرب
میرا گھر غیرتِ خورشیدِ دَرخشاں ہوگا
خیر سے جانِ قمر جب کبھی مہماں ہوگا
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
کبھی دِل جلوہ گہ سروَرِ خوباں ہوگا
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا
مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا