دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا
ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا
بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا
اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا
شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین
جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا
ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں
جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول
حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا
جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو
ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری
بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے
نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مِرے دِل میں چین آئے تو اسے قرار آئے
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری اَنجمن آرائی کے
کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے مَلاحت کسی کی
مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے
نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے
کہ آج رُک رُک کے خونِ دِل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے
نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے
درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دَوا لے
آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے
کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے
اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی
کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقت ان کی
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو
سن لو میری اِلتجا اچھے میاں
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں
کہ نااُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
تمہیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ اِمکاں میں
کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں
اپنے سرکار کے دَربار کو کیونکر دیکھیں
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لئے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں
اللہ برائے غوثِ اعظم
دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم
تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم
بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے اَرمانِ جمال
طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال
اس طرف بھی اِک نظر اے برقِ تابانِ جمال
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف
رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف
چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
رکھے خاکِ دَرِ دِلدار سے ربط
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ اَنبیا میں مصطفیٰ خاص
جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن کہ ہو اس سے خدا خوش
ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس