طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث
مگر تیرا کرم کامل ہے یا غوث
بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث
تِرے ہی در سے مُسْتَکْمِل ہے یا غوث
جو تیرا طِفْل ہے کامل ہے یا غوث
طُفَیْلی کا لَقب واصل ہے یا غوث
تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث
تِرا قطرہ یمِ سَائل ہے یا غوث
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
اَلَا یٰایُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاْسًاوَّ نَاوِلْھَا
کہ بَر یادِ شہِ کوثر بِنا سازَیم مَحفِلہا
آتے رہے اَنبیا کَمَا قِیْلَ لَھُمْ
وَ الْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نِرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے
دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
مُلحِدوں کی کیا مروَّت کیجیے
حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے
گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے
نہ لطف اُدْنُ یَا اَحْمَدنصیب لَنْ تَرَانِیہے
نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے
نبی راز دارِ مَعَ اللہ لِی ہے
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے
مُبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے
اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے
اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے
مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے
تَہْنِیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غَفَّار ہے
سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گلِ زَیبا کہوں تجھے
کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے
ہر طرف دِیدۂ حیرت زَدہ تکتا کیا ہے
راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے
پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے
آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی
مشکل آسان الہٰی مری تنہائی کی
عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی
یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے
یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے
دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے
سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ
کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیز گاری واہ واہ
یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو
پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جِبریل پر بِچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو
یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو
پھر دِکھا دے وہ رُخ اے مہرِ فروزاں ! ہم کو
زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو
اِلہٰی طاقت پرواز دے پرہائے بلبل کو
چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
حُور بڑھ کر شِکن ناز پہ وارے گیسو
زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو
آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترَس جانے دو
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں
اُن کی ہم مَدْح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں
رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زُلف یا مُشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں
راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
مصطفٰے ہے مَسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں
ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شِیریں مَقالی ہاتھ میں