Naat Academy Naat Academy
Get App WhatsApp
Naat Academy

Archives: Kalaam

465 entries in this collection.

Manqabat

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث

مگر تیرا کرم کامل ہے یا غوث

Hamd

بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث

تِرے ہی در سے مُسْتَکْمِل ہے یا غوث

Hamd

جو تیرا طِفْل ہے کامل ہے یا غوث

طُفَیْلی کا لَقب واصل ہے یا غوث

Hamd

تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث

تِرا قطرہ یمِ سَائل ہے یا غوث

Naat

اُمَّتان و سیاہ کاریْہا

شافعِ حشر و غم گُساریْہا

Hamd

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا

Hamd

اَلَا یٰایُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاْسًاوَّ نَاوِلْھَا

کہ بَر یادِ شہِ کوثر بِنا سازَیم مَحفِلہا

Naat

آتے رہے اَنبیا کَمَا قِیْلَ لَھُمْ

وَ الْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم

Hamd

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

نئے نِرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے

Hamd

بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے

Hamd

شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے

جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے

Hamd

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

مُلحِدوں کی کیا مروَّت کیجیے

Naat

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

نار سے بچنے کی صورت کیجیے

Hamd

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

Hamd

نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے

نہ لطف اُدْنُ یَا اَحْمَدنصیب لَنْ تَرَانِیہے

Naat

نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے

نبی راز دارِ مَعَ اللہ لِی ہے

Naat

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

Hamd

گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے

مُبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے

Naat

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے

Hamd

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

Naat

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے

Hamd

مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے

تَہْنِیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غَفَّار ہے

Hamd

سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے

باغِ خلیل کا گلِ زَیبا کہوں تجھے

Hamd

کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے

ہر طرف دِیدۂ حیرت زَدہ تکتا کیا ہے

Naat

راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے

پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے

Salam

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے

Hamd

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

جانے والے نہیں آنے والے

Hamd

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے

Hamd

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

Naat

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

مشکل آسان الہٰی مری تنہائی کی

Naat

عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی

دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی

Hamd

یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے

یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے

Manqabat

اللہ اللہ کے نبی سے

فریاد ہے نفس کی بدی سے

Hamd

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے

تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے

Hamd

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے

Naat

سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی

سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی

Naat

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ

Naat

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

قرض لیتی ہے گنہ پرہیز گاری واہ واہ

Hamd

یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو

Hamd

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

جِبریل پر بِچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو

Naat

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو

کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو

Naat

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو

پھر دِکھا دے وہ رُخ اے مہرِ فروزاں ! ہم کو

Munajat

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

اِلہٰی طاقت پرواز دے پرہائے بلبل کو

Hamd

چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو

حُور بڑھ کر شِکن ناز پہ وارے گیسو

Naat

زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو

آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترَس جانے دو

Hamd

وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں

اُن کی ہم مَدْح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں

Naat

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

شب زُلف یا مُشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

Hamd

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں

Naat

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

مصطفٰے ہے مَسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں

Hamd

ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں

سنگریزے پاتے ہیں شِیریں مَقالی ہاتھ میں