اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کُوچے بَسا دیے ہیں
وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں
تیرے دِن اے بہار پِھرتے ہیں
اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں
جاتی ہے اُمّتِ نبوی فرش پر کریں
یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بِٹھائے بدنصیب سر پہ بلا اُٹھائی کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں
رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں
ذرّہ تِرا جو اے شہِ گَردُوں جناب ہُوں
عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
یاخدا جلد کہیں آئے بہارِ دامن
عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں
پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم
یاالٰہی کیوں کر اُتریں پار ہم
ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم
قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم
سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول
لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول
کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پامال جلوۂ کفِ پا ہے جمَالِ گل
تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک
تمہارے نعل کی ناقِص مِثل ضیائے فلک
نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض
ظلمتِ حشر کو دِن کر دے نہارِ عارِض
گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر
رہ گئی ساری زَمیں عَنْبرِ سارا ہو کر
بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
سرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر
اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر
لِلّٰہ لے خبر مِری لِلّٰہ لے خبر
زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہ سَلَّم
کہ ہے عرشِ حق زیرِپائے مُحَمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہ سَلَّم
طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ
مانگوں نعت نبی لکھنے کو روحِ قُدس سے ایسی شاخ
جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
خُلد کا نام نہ لے بُلبلِ شیدائی دوست
پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب
پھر کھنچا دامن دل سُوئے بیابانِ عرب
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
غازۂ رُوئے قمر دُودِ چراغانِ عرب
نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا
بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا
لمعۂ باطن میں گمنے جلوۂ ظاہر گیا
خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا
تمہارے کُوچہ سے رُخصت کیا نہال کیا
شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
ساقی میں ترے صدقے مے دے رمضاں آیا
نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا
حضورِ خاکِ مَدینہ خمیدہ ہونا تھا
لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍمثلِ تو نہ شُد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے تجھ کو شہ دَوسَرا جانا
لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا
نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا
ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جَد اَعلیٰ ہے ہمارا
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا
مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا
تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تُو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اُونچے اُونچوں کے سَروں سے قدَم اعلیٰ تیرا
واہ کیاجُود و کرم ہے شَہِ بَطْحا تیرا
نہیں ُسنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو
ہاں شَرع کا البتہ ہے جُنْبہ مجھ کو
فقیر قادری سگِ بارگاہ رضوی محمد ابراہیم خوشتر صدیقی
غَفرلَہ المَولی القَویخانقاہ قادریہ رضویہ ڈربن جنوبی افریقہ
ہیں عرشِ بریں پر جلو ہ فگن محبوبِ خُدا سُبْحَانَ اللّٰہ
اک بار ہوا دیدار جسے سَو بار کہا سُبْحَانَ اللّٰہ
شاہد گل ہے مَست ناز حجلۂ نَوبہار میں
ناز و اَدا کے پھول ہیں پھولے گلے کے ہار میں
گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
دلہن شفاعت بنے گی دولہا نبی عَلَیہ السَّلَام ہو گا
محمد مُصطفیٰ نورِ خُدا نامِ خُدا تم ہو
شَہِ خَیْرُ الْوَریٰ شانِ خُدا صَلِّ عَلٰی تم ہو
کون میں کون ہے تُو ہی تُو، تُو ہی تُو ہے یا مَنْ ہُوْ
تُو ہی تُو ہے تُو ہر سُو یا مَنْ لَیْسَ اِلَّا ھُوْ