Naat Academy Naat Academy
Get App WhatsApp
Naat Academy

Category: Munajat

204 entries in this collection.

Istighasa

دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا

ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا

Hamd

بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا

Hamd

شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا

اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا

Hamd

شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین

جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا

Hamd

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول

Hamd

حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا

جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو

Munajat

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے

Hamd

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

Hamd

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی

Hamd

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے

Hamd

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے

Hamd

اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

Hamd

تم ہو حسرت نکالنے والے

نامرادوں کے پالنے والے

Hamd

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

مِرے دِل میں چین آئے تو اسے قرار آئے

Hamd

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے

Hamd

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

صدقے جاؤں میں تری اَنجمن آرائی کے

Hamd

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

بھرے زخم دل کے مَلاحت کسی کی

Hamd

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے

Hamd

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

کہ آج رُک رُک کے خونِ دِل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے

Hamd

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دَوا لے

Hamd

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے

Hamd

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے

Hamd

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

آپ اپنے پہ قیامت کرلی

Hamd

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقت ان کی

Hamd

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے

Hamd

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے

Munajat

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ

Hamd

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو

Hamd

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو

Hamd

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو

Hamd

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو

Hamd

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں

میں تصدق میں فدا اچھے میاں

Hamd

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں

کہ نااُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں

Hamd

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں

تمہیں دولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ اِمکاں میں

Hamd

کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں

اپنے سرکار کے دَربار کو کیونکر دیکھیں

Hamd

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

لئے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

Hamd

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں

Hamd

اللہ برائے غوثِ اعظم

دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم

Hamd

تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم

Hamd

بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال

دل کے آئینوں کو مدت سے ہے اَرمانِ جمال

Hamd

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال

اس طرف بھی اِک نظر اے برقِ تابانِ جمال

Hamd

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک

Hamd

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق

Hamd

رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف

رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف

Hamd

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف

Hamd

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

رکھے خاکِ دَرِ دِلدار سے ربط

Istighasa

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض

یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض

Hamd

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص

گروہِ اَنبیا میں مصطفیٰ خاص

Hamd

جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش

نہیں ممکن کہ ہو اس سے خدا خوش

Hamd

ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس

چمک اُٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس