یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو
یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے
یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے
مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے
تَہْنِیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غَفَّار ہے
شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ
فَقُلْتُ لِخَمْرَتِیْ نَحْوی تَعَالٖ
خوشا دِلے کہ دِہندَش ولائے آلِ رسول
خوشا سَرے کہ کُنِندَش فدائے آلِ رسول
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
یا خدا بہرِ جنابِ مصطفٰی امداد کُن
یا رسولَ اللہ از بہرِ خدا امداد کُن
ہیں عرشِ بریں پر جلو ہ فگن محبوبِ خُدا سُبْحَانَ اللّٰہ
اک بار ہوا دیدار جسے سَو بار کہا سُبْحَانَ اللّٰہ
شاہد گل ہے مَست ناز حجلۂ نَوبہار میں
ناز و اَدا کے پھول ہیں پھولے گلے کے ہار میں
گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
دلہن شفاعت بنے گی دولہا نبی عَلَیہ السَّلَام ہو گا
محمد مُصطفیٰ نورِ خُدا نامِ خُدا تم ہو
شَہِ خَیْرُ الْوَریٰ شانِ خُدا صَلِّ عَلٰی تم ہو
کون میں کون ہے تُو ہی تُو، تُو ہی تُو ہے یا مَنْ ہُوْ
تُو ہی تُو ہے تُو ہر سُو یا مَنْ لَیْسَ اِلَّا ھُوْ
مبارک فضل بھائی کو عجب ہی نورچھایاہے
شبِ اَسرا کے دولہا نے انہیں دولہا بنایا ہے
اَلوَداع اے سبز ُگنبد کے مکیں
الفراق اے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیں
گوشِ دِل سے مومنو سن لو ذرا
ہے یہ ِقصہ فاطمہ کے عقد کا
نہ کوئی رُسوخ و اَثر چاہیے
فقط تیری سیدھی نظر چاہیے
اے بہارِ باغِ اِیماں مرحبا صد مرحبا
اے چراغِ بزمِ عرفاں مرحبا صد مرحبا
ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں
حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں
یَا نَبِیْ سَلَامٌ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلْ سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَا حَبِیْب سَلَامٌ عَلَیْکَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْکَ
تورب ہے مرا میں بندہ ترا سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ
اے خالق و مالک ربِ ُعلی سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ
مرشدِ برحق شہِ احمد رضا
عالمِ دِیں وارثِ پیغمبراں
آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
رہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری
شہِ عرشِ اعلیٰ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
حبیبِ خدایا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
کیا لکھوں عز و علائے غوثِ پاک
ہو نہیں سکتی ثنائے غوثِ پاک
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات
میں پڑھوں شاہ کی کچھ مَدْح و ثنا آج کی رات
چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوثِ اعظم کا
سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترے ذِکر کی رِفعت کیا کہنا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
شاہا دوجہاں میں ہے شہرہ تری رحمت کا
ہر ذَرَّہ ثنا خواں ہے مولیٰ تری رِفعت کا
شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا
بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا
خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
دُرُود اُس پر ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رِسالت کا