شکرِ خدا کلامِ اُستاد َچھپ گیا وہ
جس کا ہر ایک ِمصرع ہے مخزنِ مضامیں
خدا کا شکر کہ اُستاد کا کلام چھپا
خوشی ہو میرے لیے اس سے اور کیا بڑھ کر
میرے اُستاد کا چھپا وہ کلام
جس کا مدت سے دل میں تھا اَرمان
میرے استادِ معظم کا چھپا مجموعہ
جس کے ہر شعر سے عشقِ نبوی ہے تاباں
اے جمیلِؔ قادری ہوشیار ہو ہوشیار ہو
ذاتِ باقی کے سوا باقی نہیں ہے کوئی شے
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا وِیران ہے برباد ہے
ہیں مظہرِ ذاتِ حق رسولِ اَکرم
مختار و خلیفۂ خدائے عالم
بندۂ حق عمر نہ کھو لہو میں
ہوش میں آ عقل کو اپنی سنبھال
مرشدِ برحق شہِ احمد رضا
عالمِ دِیں وارثِ پیغمبراں
طبیعت آج کیوں ایسی رَسا ہے
کہ خود اپنی زباں پر مرحبا ہے
آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
رہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری
یَا نَبِی سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَارَسُوْل سَلَامٌ عَلَیْک
تری مدح خواں ہر زباں غوثِ اعظم
ترا نام مومن کی جاں غوثِ اعظم
نہیں میرے اچھے عمل غوثُ الاعظم
مگر تم پہ رکھتا ہوں بل غوثُ الاعظم
ہے دِل کو تری جستجو غوثِ اعظم
زَباں پر تری گفتگو غوثِ اعظم
تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
ملی ہے تجھے گیارہویں غوثِ اعظم
شہِ عرشِ اعلیٰ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
حبیبِ خدایا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
اے شہنشاہِ مدینہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
زینتِ عرشِ مُعلّٰی اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کیا لکھوں عز و علائے غوثِ پاک
ہو نہیں سکتی ثنائے غوثِ پاک
جان و دِل سے تم پہ میری جان قرباں غوثِ پاک
ہے سلامت تم سے میرا دِلین و ایماں غوثِ پاک
ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
یانبی سب ہے تمہاری رونق
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
رکھتا ہے جو غوثِ اعظم سے نیاز
ہوتا ہے خوش اُس سے مولیٰ بے نیاز
اُس کو کب ہو گل و گلزار عزیز
ہیں مَدینے کے جسے خار عزیز
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستانِ محمد
روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد
ذِکر حضورِ پاک ہے میرے لیے غذائے رُوح
قلب کا چین اسی سے ہے کہیے اسے دَوائے رُوح
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یاغوث
عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات
میں پڑھوں شاہ کی کچھ مَدْح و ثنا آج کی رات
چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوثِ اعظم کا
کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈَنکا غوث کا
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا
سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترے ذِکر کی رِفعت کیا کہنا
نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
کب ترے دَر سے کوئی لوٹ کے بے داد آیا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
شاہا دوجہاں میں ہے شہرہ تری رحمت کا
ہر ذَرَّہ ثنا خواں ہے مولیٰ تری رِفعت کا
اَفلاک سے اُونچا ہے ایوان محمد کا
مخلوقِ الٰہی ہے سامان محمد کا
شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا