ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رَنج و اَلم کی صورت
ہے تم سے عالم پرضیا ماہِ عجم مہرِ عرب
دے دو میرے دل کو جلا ماہِ عجم مہرِ عرب
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے اَنبیا مہرِ عجم ماہِ عرب
میرا گھر غیرتِ خورشیدِ دَرخشاں ہوگا
خیر سے جانِ قمر جب کبھی مہماں ہوگا
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
کبھی دِل جلوہ گہ سروَرِ خوباں ہوگا
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا
مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا
پڑھوں وہ مَطلعِ نوری ثنائے مہرِ اَنور کا
ہو جس سے قلب روشن جیسے مَطلع مہرِ محشر کا
لَا مَوجُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَشْھُوْدَ اِلَّا اللہ
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ
اللہ اللہ اللہ اللہ
قلب کو اُس کی رُویت کی ہے آرزو
حمد ہے اُس ذات کو جس نے مسلماں کردیا
عشقِ سلطانِ جہاں سینہ میں پنہاں کردیا