Naat Academy Naat Academy
Get App WhatsApp
Naat Academy

Archives: Kalaam

465 entries in this collection.

Munajat

مبارک فضل بھائی کو عجب ہی نورچھایاہے

شبِ اَسرا کے دولہا نے انہیں دولہا بنایا ہے

Manqabat

غوثِ اَعظم دستگیرِ بے کساں

غوثِ اَعظم رہنمائے گمرہاں

Naat

اے کریم از ما جفا از تو وفا

اے رحیم از ما خطا از تو عطا

Istighasa

اَلوَداع اے سبز ُگنبد کے مکیں

الفراق اے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیں

Istighasa

کہاں ہو یَا رَسُوْلَ اللہ کہاں ہو

مری آنکھوں سے کیوں ایسے نہاں ہو

Hamd

آئیں جب خاتونِ جنت اپنے گھر

پڑ گئے سب کام ان کی ذات پر

Manqabat

فاطمہ زَہرا کا جس دن عقد تھا

سن لو ان کے ساتھ کیا کیا نقد تھا

Hamd

گوشِ دِل سے مومنو سن لو ذرا

ہے یہ ِقصہ فاطمہ کے عقد کا

Manqabat

نہ کوئی رُسوخ و اَثر چاہیے

فقط تیری سیدھی نظر چاہیے

Hamd

نعیمِ دِین و ملت ناصرِ شرعِ مبیں تم ہو

معینِ اَہلِ سنت ناشرِ اَحکامِ دِیں تم ہو

Manqabat

جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو

جس میں نبی کو دیکھا وہ شیشہ تم ہی تو ہو

Manqabat

اے بہارِ باغِ اِیماں مرحبا صد مرحبا

اے چراغِ بزمِ عرفاں مرحبا صد مرحبا

Manqabat

ہیں میرے پیر لاثانی محی الدین جیلانی

نبی کی شمع نورانی محی الدین جیلانی

Manqabat

ہوگیا یاغوث میں برباد ہوتے آپ کے

رہ گیا میں بے کس و ناشاد ہوتے آپ کے

Hamd

ہمارے آقا ہمارے مولیٰ امامِ اعظم ابوحنیفہ

ہمارے مَلجا ہمارے مَاویٰ امام اعظم ابوحنیفہ

Hamd

سروہ ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کے لیے

آبرو وہ جو گُمے دین کی عظمت کے لیے

Manqabat

ہے رتبہ اس لیے کونین میں عصمت کا عفت کا

شرف حاصل ہے ان کو دامنِ زہرہ سے نسبت کا

Hamd

صدقہ تم پر ہوں دل و جاں آمنہ

تم نے بخشا ہم کو ایماں آمنہ

Manqabat

اس مبارک ماں پہ صدقہ کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں

جو ہو اُمّ المومنیں بنتِ امیر المومنیں

Manqabat

بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ

جو مرکز ہے شریعت کا طریقت کا ہے سر چشمہ

Manqabat

خلق پہ لطفِ خدا حضرتِ عثمان ہیں

جملہ مرض کی دَوا درد کے درمان ہیں

Manqabat

بہارِ باغِ اِیماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں

چراغِ بزمِ عرفاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں

Manqabat

بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

سروَری جس پہ کرے ناز وہ سروَر صدیق

Manqabat

ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم

تو ہی کرم کردے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم

Istighasa

صورت مت بھولنا پیا ہماری

تمری ہی اِک آس ہے ہم تمرے واری

Istighasa

اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی

جانا اس ُگنبد خضرا میں کہ ہیں جس میں نبی

Istighasa

جوت سے ان کی جگ اُوجیالا

وہ سورج اور سارے تارے

Istighasa

جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیٰ میرا دِل اُنہیں پہ نثار ہے

مرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گر کہ مدینہ جن کا دِیار ہے

Hamd

بشر وہ ہے جس کو تری جستجو ہے

وہی لب ہے جس پر تری گفتگو ہے

Istighasa

وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے

ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رَسائی ہے

Hamd

دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی

اورآنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی

Hamd

ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں

حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں

Istighasa

تم ہی ہو چین اور قرار اِس دلِ بے قرار میں

تم ہی تو ایک آس ہو قلبِ گناہ گار میں

Istighasa

بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں

وہ بشر ہے دین سے بے خبر جو رہِ نبی میں گما نہیں

Hamd

نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں

جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں

Istighasa

خالقِ ُکل اے ربِ ُعلیٰ

شکر ترا کیوں کر ہو اَدا

Munajat

یَا نَبِیْ سَلَامٌ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلْ سَلَامٌ عَلَیْکَ

یَا حَبِیْب سَلَامٌ عَلَیْکَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْکَ

Hamd

ماہِ رَبیعُ الاوّل آیا

رب کی رحمت ساتھ میں لایا

Hamd

جن کا لقب ہے مصطفیٰ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

ان سے ہمیں خدا مِلا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

Hamd

ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا

وہ جس کو ملے دن اس کے پھر ے پایا جو انہیں تو خدا پایا

Istighasa

خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا

Hamd

نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا

شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا

Istighasa

خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا

جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اِضطراب کیسا

Istighasa

زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا

لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا

Hamd

تورب ہے مرا میں بندہ ترا سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ

اے خالق و مالک ربِ ُعلی سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ

Hamd

برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین

سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابُوالحسین

Hamd

کیسے کاٹوں رَتیاں صابر

تارے ِگنت ہوں سیاں صابر

Hamd

مومنو وقت اَدَب ہے

آمدِ محبوبِ رَب ہے

Hamd

میرے اُستادِ معظم کا کلام

چھپ گیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْعَظِیْم

Manqabat

مِدحتِ سرورِ دیں میرے محب نے لکھی

بالیقیں گلشنِ فردوس کی ہوگی یہ سبیل