جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت رَوا فاروقِ اعظم سا
مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا
جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم اِمکاں سے نکالا
یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰی کا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا
دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے
مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے
تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے
تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم
ضیائے سراج الظلم غوثِ اعظم
کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم
مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم
ترا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم
ترا چہرہ اِیماں فزا غوثِ اعظم
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
سب سے اَعلیٰ عزت والے غلبہ و قہر و طاقت والے
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رَنج و اَلم کی صورت
ہے تم سے عالم پرضیا ماہِ عجم مہرِ عرب
دے دو میرے دل کو جلا ماہِ عجم مہرِ عرب
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے اَنبیا مہرِ عجم ماہِ عرب
میرا گھر غیرتِ خورشیدِ دَرخشاں ہوگا
خیر سے جانِ قمر جب کبھی مہماں ہوگا
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
کبھی دِل جلوہ گہ سروَرِ خوباں ہوگا
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا