چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا
وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالبِ دِیدار تمہارا
شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین
جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری
ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن کہ ہو اس سے خدا خوش
جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح
ہوئے زمین و زماں کامیابِ ُحسنِ َملیح
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یاغوث
باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنانِ اَہلِ بیت
مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا
جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا
آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا
فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا
لَا مَوجُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَشْھُوْدَ اِلَّا اللہ
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ
حمد ہے اُس ذات کو جس نے مسلماں کردیا
عشقِ سلطانِ جہاں سینہ میں پنہاں کردیا