Ghazal
Qateel-e-khanjar-e-bedaad hoon main
قتیل خنجر بیداد ہوں میں
Urdu Kalam
مطلع
قتیلِ َخنجرِ بیداد ہوں میں
فدائے ناوکِ صیاد ہوں میں
مجھی سے ہے جہاں میں نامِ اُلفت
حدیث عشق کی اِسناد ہوں میں
مصائب کے پہاڑوں کا نہیں خوف
کہ اپنے وقت کا فرہاد ہوں میں
نکالے چشمے اس بت کو رُلا کر
ترا اے کوہ کن استاد ہوں میں
میں یہ چاہوں کہ تم ہو خانہ آباد
یہ چاہو تم مروں برباد ہوں میں
یہ پایا آپ کی اُلفت کا ثمرہ
لگایا جب سے دِل ناشاد ہوں میں
چمن میں کس طرح میرا گزر ہو
اَسیرِ پنجۂ صیاد ہوں میں
کیا ایسا غموں نے مجھ کو رَنجور
کہ محوِ نالہ و فریاد ہوں میں
اَسیرِ عشق ہوں آزاد ہوں میں
غموں میں مبتلا ہوں شاد ہوں میں
یہ فیاضی کرم کر کرکے ہر بار
مجھی کو بھولتے ہیں یاد ہوں میں
مٹادی اس نے میری سرگرانی
رَہینِ منتِ جلاد ہوں میں
گل و نسریں پہ دل مائل نہیں ہے
فِدائے قامت شمشاد ہوں میں
مقطع
نعیمؔ بے خطا پر یہ جفائیں
غنیمت ہے کہ ان کو یاد ہوں میں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musaddas Mahzoof
Radif
ں
Total Ashaar
13
Total Misra
26
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem
Category
Ghazal
Topics
Ishq-e-Rasool