آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
رہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری
تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
ملی ہے تجھے گیارہویں غوثِ اعظم
شہِ عرشِ اعلیٰ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
حبیبِ خدایا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ
کیا لکھوں عز و علائے غوثِ پاک
ہو نہیں سکتی ثنائے غوثِ پاک
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
اُس کو کب ہو گل و گلزار عزیز
ہیں مَدینے کے جسے خار عزیز
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستانِ محمد
روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یاغوث
عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات
میں پڑھوں شاہ کی کچھ مَدْح و ثنا آج کی رات
چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوثِ اعظم کا
کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈَنکا غوث کا
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا
نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
کب ترے دَر سے کوئی لوٹ کے بے داد آیا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
اَفلاک سے اُونچا ہے ایوان محمد کا
مخلوقِ الٰہی ہے سامان محمد کا
شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا
کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا
کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا
وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا
ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا
خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہچانا کسی نے آج تک رُتبہ محمد کا
وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالبِ دِیدار تمہارا
خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا
تو عالم کیوں نہ ہو بندہ ترے حسن و مَلاحت کا
ہے ذِکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا
میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا
قبول بندۂ دَر کا سلام کرلینا
سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا
کفشِ پا اُن کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت
خاکِ پا اُن کی مَلوں منہ پہ تو پاؤں طَلعَت
بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا
اِک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا
شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین
جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا
ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں
جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول
حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا
جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو
اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں
اَلسَّلَام اے راحت جانِ حزیں
ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار
گواہ ہیں دلِ مخزون و چشمِ دَریا بار
اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا
اَخترِ برجِ سخاوَت گوہر دُرجِ عطا
نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری
بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے
نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مِرے دِل میں چین آئے تو اسے قرار آئے
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے