مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زَنگار کا
کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا
وصف کیا لکھے کوئی اس مَہْبِطِ اَنوار کا
مہر و مہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رُخسار کا
پڑھوں وہ مَطلعِ نوری ثنائے مہرِ اَنور کا
ہو جس سے قلب روشن جیسے مَطلع مہرِ محشر کا
لَا مَوجُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَشْھُوْدَ اِلَّا اللہ
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ
اللہ اللہ اللہ اللہ
قلب کو اُس کی رُویت کی ہے آرزو
حمد ہے اُس ذات کو جس نے مسلماں کردیا
عشقِ سلطانِ جہاں سینہ میں پنہاں کردیا