باقیِ اَسیاد یا سَجّاد یا شاہِ جواد
خضرِ ِارشاد آدمِ آلِ عَبا امداد کن
لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
حُور بڑھ کر شِکن ناز پہ وارے گیسو
دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
مُلحِدوں کی کیا مروَّت کیجیے
یَا اِبْنَ ہٰذَا الْمُرْتَجٰی یَا عَبْدَ رَزَّاقِ الْوَریٰ
تا کہ باشَد رزقِ ما عشقِ شُما امداد کن
بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا
لمعۂ باطن میں گمنے جلوۂ ظاہر گیا
پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جِبریل پر بِچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے
شاہِ بَرَکات اے ابُو البرکات اے سلطانِ جُود
بَارَکَ اللہ اے مبارک بادشا امداد کن
فقیر قادری سگِ بارگاہ رضوی محمد ابراہیم خوشتر صدیقی
غَفرلَہ المَولی القَویخانقاہ قادریہ رضویہ ڈربن جنوبی افریقہ
ہیں عرشِ بریں پر جلو ہ فگن محبوبِ خُدا سُبْحَانَ اللّٰہ
اک بار ہوا دیدار جسے سَو بار کہا سُبْحَانَ اللّٰہ
شاہد گل ہے مَست ناز حجلۂ نَوبہار میں
ناز و اَدا کے پھول ہیں پھولے گلے کے ہار میں
گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
دلہن شفاعت بنے گی دولہا نبی عَلَیہ السَّلَام ہو گا
محمد مُصطفیٰ نورِ خُدا نامِ خُدا تم ہو
شَہِ خَیْرُ الْوَریٰ شانِ خُدا صَلِّ عَلٰی تم ہو
کون میں کون ہے تُو ہی تُو، تُو ہی تُو ہے یا مَنْ ہُوْ
تُو ہی تُو ہے تُو ہر سُو یا مَنْ لَیْسَ اِلَّا ھُوْ
آئیں جب خاتونِ جنت اپنے گھر
پڑ گئے سب کام ان کی ذات پر
گوشِ دِل سے مومنو سن لو ذرا
ہے یہ ِقصہ فاطمہ کے عقد کا
نعیمِ دِین و ملت ناصرِ شرعِ مبیں تم ہو
معینِ اَہلِ سنت ناشرِ اَحکامِ دِیں تم ہو
ہمارے آقا ہمارے مولیٰ امامِ اعظم ابوحنیفہ
ہمارے مَلجا ہمارے مَاویٰ امام اعظم ابوحنیفہ
سروہ ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کے لیے
آبرو وہ جو گُمے دین کی عظمت کے لیے
صدقہ تم پر ہوں دل و جاں آمنہ
تم نے بخشا ہم کو ایماں آمنہ
بشر وہ ہے جس کو تری جستجو ہے
وہی لب ہے جس پر تری گفتگو ہے
دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی
اورآنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی
ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں
حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں
جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں
جن کا لقب ہے مصطفیٰ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
ان سے ہمیں خدا مِلا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
وہ جس کو ملے دن اس کے پھر ے پایا جو انہیں تو خدا پایا
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا
شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
تورب ہے مرا میں بندہ ترا سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ
اے خالق و مالک ربِ ُعلی سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ
برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابُوالحسین
میرے اُستادِ معظم کا کلام
چھپ گیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْعَظِیْم
شکرِ خدا کلامِ اُستاد َچھپ گیا وہ
جس کا ہر ایک ِمصرع ہے مخزنِ مضامیں
خدا کا شکر کہ اُستاد کا کلام چھپا
خوشی ہو میرے لیے اس سے اور کیا بڑھ کر
میرے اُستاد کا چھپا وہ کلام
جس کا مدت سے دل میں تھا اَرمان
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا وِیران ہے برباد ہے
بندۂ حق عمر نہ کھو لہو میں
ہوش میں آ عقل کو اپنی سنبھال
مرشدِ برحق شہِ احمد رضا
عالمِ دِیں وارثِ پیغمبراں
طبیعت آج کیوں ایسی رَسا ہے
کہ خود اپنی زباں پر مرحبا ہے