کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا
جان و دِل یارب ہو قربانِ حبیبِ کبریا
اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیبِ کبریا
کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا
وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا
ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا
خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہچانا کسی نے آج تک رُتبہ محمد کا
وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالبِ دِیدار تمہارا
بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا
خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا
تو عالم کیوں نہ ہو بندہ ترے حسن و مَلاحت کا
خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
دُرُود اُس پر ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رِسالت کا
دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا
ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا
ہے ذِکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا
میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا
قبول بندۂ دَر کا سلام کرلینا
سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یاغوث
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا