Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندرؔ

مجھ کو طوفاں کی موجوں کا کیا ڈر یہ گزر جائیں گی رخ بدل کر

دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم

ہر خطا پر مری چشم پوشی ہر طلب پر عطاؤں کی بارش

میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمد

میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

ناکارہ حسنؔ آپ کے دربارِ کرم کا

کیا لطف ہو آقا مجھے محشر میں یہ کہہ دیں

جب تک نہ ملے گی تیری خیرات، یہ دامن

یہ نامِ محمدؐ ہے کہ رحمت کا سمندر

اللہ کے محبوب کے ٹکڑوں پہ یہ عاصی

سرکار سے مانگو تو سہی آل کا صدقا

تیروں کے مُصّلے پہ شبّیر کا سجدہ

یہ دل تیری یادوں سے مہکتا ہی رہے گا

کیا اقرار سب نے رفعت شان مقدس کا

کیا رحمت سے اپنی آپ نے امت کو یاد اس دم

خیال و فکر کا بھی پہنچنا ہے جس جگہ مشکل

کیا نازل خدا نے آپ پر جس دم سلام اپنا

خدا وند تعالیٰ نے بلایا عرش پر تم کو

بیاں کب ہو سکے رتبہ تمہارا یا رسول اللہ

ڈرتا ہوں میں، حضورؐ، نہ جائے بھٹک کہیں

مانگا بھی تھا ریاضؔ وسیلہ حضورؐ کا

ہم لوگ دشتِ خوف میں تنہا ہیں اس طرح

دستِ صبا پہ چاند کی کرنوں نے رکھ دیا

اک کیفِ سرمدی کا تواتر سے ہے نزول

ہر ہر قدم پہ، زائرِ طیبہ، زرِ ادب

آنکھوں نے بھی درود ہے بھیجا تمام شب

خوشبو طواف میرے قلم کا کیا کرے

چہرہ تو اس کا جانبِ شہرِ نبیؐ کرو

دھڑکن ہر ایک اُنؐ سے ہے منسوب اس لئے

امت کھڑی ہے زر کی تپش کے حصار میں

اس عصرِ نو کو عجز کی چادر عطا کریں

طوفانِ تند و تیز میں صدیوں سے، یانبیؐ

آقاؐ، ہوائے عدل مقفّل ہے اِن دنوں

تاریخ اضطراب کے عالم میں ہے، حضورؐ

صلِّ علیٰ کا لب پہ ہے گلشن کھلا ہوا

mیں اُس کے کسی طاق میں رکھ آیا ہوں آنکھیں

اِمشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا

سوچوں کے درِ شوق پہ دستک دو ہواؤ!

ہر شخص بھروسے کے بھی قابل نہیں ہوتا

وہ آبِ خنک، ٹھنڈی کھجوریں، لبِ تشنہ

محدود ہے کب رحمتِ آقائے مکرّم

ہر ساعتِ ویراں کو عطا ہوتی ہے شبنم

ہاتھوں میں لئے پھول، صبا رقص کرے گی

کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر

ہاں ہاں میں ہوں دیوانہ نبی جیؐ کا ازل سے

سورج سوا نیزے پہ بڑے شوق سے چمکے

شاید نہیں معلوم رقیبانِ سحر کو

تخلیقِ خدا، جن کا بدل کوئی نہیں ہے