Naat Academy Naat Academy
Get App WhatsApp
Naat Academy

نعت

نعتِ رسول

Naat

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

شب زُلف یا مُشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

Naat

اُمَّتان و سیاہ کاریْہا

شافعِ حشر و غم گُساریْہا

Hamd

فقیر قادری سگِ بارگاہ رضوی محمد ابراہیم خوشتر صدیقی

غَفرلَہ المَولی القَویخانقاہ قادریہ رضویہ ڈربن جنوبی افریقہ

Naat

اے کریم از ما جفا از تو وفا

اے رحیم از ما خطا از تو عطا

Istighasa

صورت مت بھولنا پیا ہماری

تمری ہی اِک آس ہے ہم تمرے واری

Istighasa

اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی

جانا اس ُگنبد خضرا میں کہ ہیں جس میں نبی

Istighasa

جوت سے ان کی جگ اُوجیالا

وہ سورج اور سارے تارے

Istighasa

جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیٰ میرا دِل اُنہیں پہ نثار ہے

مرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گر کہ مدینہ جن کا دِیار ہے

Hamd

بشر وہ ہے جس کو تری جستجو ہے

وہی لب ہے جس پر تری گفتگو ہے

Istighasa

وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے

ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رَسائی ہے

Hamd

دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی

اورآنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی

Hamd

ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں

حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں

Istighasa

تم ہی ہو چین اور قرار اِس دلِ بے قرار میں

تم ہی تو ایک آس ہو قلبِ گناہ گار میں

Istighasa

بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں

وہ بشر ہے دین سے بے خبر جو رہِ نبی میں گما نہیں

Hamd

نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں

جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں

Istighasa

خالقِ ُکل اے ربِ ُعلیٰ

شکر ترا کیوں کر ہو اَدا

Hamd

ماہِ رَبیعُ الاوّل آیا

رب کی رحمت ساتھ میں لایا

Hamd

جن کا لقب ہے مصطفیٰ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

ان سے ہمیں خدا مِلا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

Hamd

ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا

وہ جس کو ملے دن اس کے پھر ے پایا جو انہیں تو خدا پایا

Istighasa

خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا

Hamd

نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا

شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا

Istighasa

خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا

جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اِضطراب کیسا

Istighasa

زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا

لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا

Naat

میرے استادِ معظم کا چھپا مجموعہ

جس کے ہر شعر سے عشقِ نبوی ہے تاباں

Naat

اے جمیلِؔ قادری ہوشیار ہو ہوشیار ہو

ذاتِ باقی کے سوا باقی نہیں ہے کوئی شے

Istighasa

ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق

یانبی سب ہے تمہاری رونق

Hamd

مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس

حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس

Hamd

اُس کو کب ہو گل و گلزار عزیز

ہیں مَدینے کے جسے خار عزیز

Hamd

دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر

کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر

Hamd

آنکھوں کا تارا نامِ محمد

دل کا اُجالا نامِ محمد

Hamd

ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد

ہر پھول میں خوشبوئے گلستانِ محمد

Hamd

روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد

کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد

Istighasa

ذِکر حضورِ پاک ہے میرے لیے غذائے رُوح

قلب کا چین اسی سے ہے کہیے اسے دَوائے رُوح

Hamd

پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج

جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج

Hamd

کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث

کہ تم ہو عالم الاسرار یاغوث

Hamd

عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات

میں پڑھوں شاہ کی کچھ مَدْح و ثنا آج کی رات

Hamd

چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب

اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب

Hamd

وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا

جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا

Istighasa

سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا

ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترے ذِکر کی رِفعت کیا کہنا

Hamd

نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا

کب ترے دَر سے کوئی لوٹ کے بے داد آیا

Hamd

غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ

خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ

Istighasa

شاہا دوجہاں میں ہے شہرہ تری رحمت کا

ہر ذَرَّہ ثنا خواں ہے مولیٰ تری رِفعت کا

Hamd

اَفلاک سے اُونچا ہے ایوان محمد کا

مخلوقِ الٰہی ہے سامان محمد کا

Hamd

شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا

رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا

Hamd

بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا

مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا

Hamd

کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا

وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا

Istighasa

جان و دِل یارب ہو قربانِ حبیبِ کبریا

اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیبِ کبریا

Hamd

کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا

وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا

Hamd

ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا

ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا

Hamd

خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا

نہ پہچانا کسی نے آج تک رُتبہ محمد کا