رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زُلف یا مُشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
فقیر قادری سگِ بارگاہ رضوی محمد ابراہیم خوشتر صدیقی
غَفرلَہ المَولی القَویخانقاہ قادریہ رضویہ ڈربن جنوبی افریقہ
اے کریم از ما جفا از تو وفا
اے رحیم از ما خطا از تو عطا
صورت مت بھولنا پیا ہماری
تمری ہی اِک آس ہے ہم تمرے واری
اے صبا تیرا ُگزر ہو جو مدینہ میں کبھی
جانا اس ُگنبد خضرا میں کہ ہیں جس میں نبی
جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیٰ میرا دِل اُنہیں پہ نثار ہے
مرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گر کہ مدینہ جن کا دِیار ہے
بشر وہ ہے جس کو تری جستجو ہے
وہی لب ہے جس پر تری گفتگو ہے
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رَسائی ہے
دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی
اورآنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی
ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں
حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں
تم ہی ہو چین اور قرار اِس دلِ بے قرار میں
تم ہی تو ایک آس ہو قلبِ گناہ گار میں
بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں
وہ بشر ہے دین سے بے خبر جو رہِ نبی میں گما نہیں
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں
جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لارہے ہیں
جن کا لقب ہے مصطفیٰ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
ان سے ہمیں خدا مِلا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
وہ جس کو ملے دن اس کے پھر ے پایا جو انہیں تو خدا پایا
خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا
شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اِضطراب کیسا
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا
میرے استادِ معظم کا چھپا مجموعہ
جس کے ہر شعر سے عشقِ نبوی ہے تاباں
اے جمیلِؔ قادری ہوشیار ہو ہوشیار ہو
ذاتِ باقی کے سوا باقی نہیں ہے کوئی شے
ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
یانبی سب ہے تمہاری رونق
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حالِ دل عرض کروں سید اَبرار کے پاس
اُس کو کب ہو گل و گلزار عزیز
ہیں مَدینے کے جسے خار عزیز
دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستانِ محمد
روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
کونین ہے عکس رُخِ نیکوئے محمد
ذِکر حضورِ پاک ہے میرے لیے غذائے رُوح
قلب کا چین اسی سے ہے کہیے اسے دَوائے رُوح
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یاغوث
عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات
میں پڑھوں شاہ کی کچھ مَدْح و ثنا آج کی رات
چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
اور ہلالِ عید اَبروئے حبیب
وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مَالِک ہے سارے عرب و عجم کا
سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترے ذِکر کی رِفعت کیا کہنا
نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
کب ترے دَر سے کوئی لوٹ کے بے داد آیا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
شاہا دوجہاں میں ہے شہرہ تری رحمت کا
ہر ذَرَّہ ثنا خواں ہے مولیٰ تری رِفعت کا
اَفلاک سے اُونچا ہے ایوان محمد کا
مخلوقِ الٰہی ہے سامان محمد کا
شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
بِحَمْدِ اللہ عَبْدُ اللہ کا نورِ نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لختِ جگر آیا
کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا
جان و دِل یارب ہو قربانِ حبیبِ کبریا
اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیبِ کبریا
کون ہے وہ جو لکھے رُتبۂ اَعلی اُن کا
وَصف جب خود ہی کرے چاہنے والا اُن کا
ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا
خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہچانا کسی نے آج تک رُتبہ محمد کا