Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

تصویرِ ادب بن کے مواجھے میں کھڑے ہیں

کیسے میں دکھا پاؤں گا طیبہ کے مناظر

لے جاتے ہیں اُس شہرِ خنک میں مجھے ہر شب

یارب! ہوں عطا اور تسلسل سے عطا ہوں

سب مردہ ضمیروں کو جلا ڈالوں تو اچھا

بوسیدہ کتابوں کے ورق الٹو گے کب تک

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

محمد ﷺ کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو

غبارِ راہِ انور کس قدر پرنور ہے اخترؔ

قمر آیا ہے شاید ان کے تلووں کی ضیا لینے

فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر

فضائیں مہکی مہکی ہیں ہوائیں بھینی بھینی ہیں

مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی

ذرا اے مرکبِ عمرِ رواں چل برق کی صورت

طلب گارِ مدینہ تک مدینہ خود ہی آ جائے

جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلدِ مدینہ میں

مدینے میں کھلے بابِ حیاتِ نو بطرزِ نو

وہ چمکا گنبدِ خضریٰ وہ شہرِ پُر ضیا آیا

مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبرِ منزل

مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں

مدینہ کی نچھاور ہیں یہ میرا دل مری آنکھیں

الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاکِ طیبہ میں

کرم ان کا چلا یوں دل سے کہتا راہِ طیبہ میں

قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے

جو دیکھے ان کا نقشِ پا خدا سے وہ نظر مانگوں

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج

تنگ ٹھہری ہے رضاؔ جس کے لئے وُسعتِ عرش

پانسو۵۰۰ سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام

فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضِر

شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال

لاج رکھ لی طمعِ عفو کے سودائی کی

اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں

اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں

سویا کیے نابکار بندے

پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے

ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ

تُم وہ کہ کرم کو ناز تم سے

مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی

مجبور ہیں ہم تو فِکر کیا ہے

میں دُور ہوں تم تو ہو مِرے پاس

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری

غم ہو گئے بے شمار آقا