وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالبِ دِیدار تمہارا
بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا
خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا
تو عالم کیوں نہ ہو بندہ ترے حسن و مَلاحت کا
خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
دُرُود اُس پر ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رِسالت کا
دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا
ہوا لامکاں تک اُجالا تمہارا
ہے ذِکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا
میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا
قبول بندۂ دَر کا سلام کرلینا
سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا
ہوگیا ختم یہ رسالہ آج
شکر خالق کریں نہ کیونکر ہم
اچھے کے پیارے میرے سہارے
باہر ہیں بیاں سے اُن کے مناقب
یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج
اِنعام کچھ اس کا مجھے اے بحرِ سخا دو
جُبِّ آلِ رسول بحرِ عرفاں
رونق دہ خاندانِ برکات
خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ
مہکائے بوئے خلد مرا سر بسر دِماغ
ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ