تاریخ اضطراب کے عالم میں ہے، حضورؐ
اقوامِ ارضِ شب کا بدن ہے جدا ہوا
Tareekh iztirab ke aalam mein hai, Huzoor
Aqwam-e-arz-e-shab ka badan hai juda hua
متعلقہ اشعار
صلِّ علیٰ کا لب پہ ہے گلشن کھلا ہوا
میلہ ہے خوشبوؤں کا ازل سے لگا ہوا
ریاض حسین چودھری
طوفانِ تند و تیز میں صدیوں سے، یانبیؐ
کاغذ کی کشتیوں کا ہے بیڑا گھرا ہوا
ریاض حسین چودھری
آقاؐ، ہوائے عدل مقفّل ہے اِن دنوں
محشر دیارِ لوح و قلم میں بپا ہوا
ریاض حسین چودھری
امت کھڑی ہے زر کی تپش کے حصار میں
اس کا برہنہ سر بھی ہے کب سے جھکا ہوا
ریاض حسین چودھری