ہم لوگ دشتِ خوف میں تنہا ہیں اس طرح
صحرا میں جیسے دھوپ کا صحرا بچھا ہوا
Hum log dasht-e-khauf mein tanha hain is tarah
Sehra mein jaise dhoop ka sehra bichha hua
متعلقہ اشعار
صلِّ علیٰ کا لب پہ ہے گلشن کھلا ہوا
میلہ ہے خوشبوؤں کا ازل سے لگا ہوا
ریاض حسین چودھری
تاریخ اضطراب کے عالم میں ہے، حضورؐ
اقوامِ ارضِ شب کا بدن ہے جدا ہوا
ریاض حسین چودھری
طوفانِ تند و تیز میں صدیوں سے، یانبیؐ
کاغذ کی کشتیوں کا ہے بیڑا گھرا ہوا
ریاض حسین چودھری
آقاؐ، ہوائے عدل مقفّل ہے اِن دنوں
محشر دیارِ لوح و قلم میں بپا ہوا
ریاض حسین چودھری