مطلع
Salle Ala Ka Lab Pe Hai Gulshan Khila Hua
صلِّ علیٰ کا لب پہ ہے گلشن کھلا ہوا
میلہ ہے خوشبوؤں کا ازل سے لگا ہوا
Salle Ala ka lab pe hai gulshan khila hua
Mela hai khushbuon ka azal se laga hua
متعلقہ اشعار
ڈرتا ہوں میں، حضورؐ، نہ جائے بھٹک کہیں
آنسو ہے ایک چشمِ غزل میں رکا ہوا
ریاض حسین چودھری
مانگا بھی تھا ریاضؔ وسیلہ حضورؐ کا
دستِ دعا ہے آج بھی تیرا اٹھا ہوا
ریاض حسین چودھری
ہم لوگ دشتِ خوف میں تنہا ہیں اس طرح
صحرا میں جیسے دھوپ کا صحرا بچھا ہوا
ریاض حسین چودھری
دستِ صبا پہ چاند کی کرنوں نے رکھ دیا
اشکِ رواں سے میرا قصیدہ لکھا ہوا
ریاض حسین چودھری