Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

خدا وند تعالیٰ نے بلایا عرش پر تم کو

بیاں کب ہو سکے رتبہ تمہارا یا رسول اللہ

ڈرتا ہوں میں، حضورؐ، نہ جائے بھٹک کہیں

مانگا بھی تھا ریاضؔ وسیلہ حضورؐ کا

ہم لوگ دشتِ خوف میں تنہا ہیں اس طرح

دستِ صبا پہ چاند کی کرنوں نے رکھ دیا

اک کیفِ سرمدی کا تواتر سے ہے نزول

ہر ہر قدم پہ، زائرِ طیبہ، زرِ ادب

آنکھوں نے بھی درود ہے بھیجا تمام شب

خوشبو طواف میرے قلم کا کیا کرے

چہرہ تو اس کا جانبِ شہرِ نبیؐ کرو

دھڑکن ہر ایک اُنؐ سے ہے منسوب اس لئے

امت کھڑی ہے زر کی تپش کے حصار میں

اس عصرِ نو کو عجز کی چادر عطا کریں

طوفانِ تند و تیز میں صدیوں سے، یانبیؐ

آقاؐ، ہوائے عدل مقفّل ہے اِن دنوں

تاریخ اضطراب کے عالم میں ہے، حضورؐ

صلِّ علیٰ کا لب پہ ہے گلشن کھلا ہوا

mیں اُس کے کسی طاق میں رکھ آیا ہوں آنکھیں

اِمشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا

سوچوں کے درِ شوق پہ دستک دو ہواؤ!

ہر شخص بھروسے کے بھی قابل نہیں ہوتا

وہ آبِ خنک، ٹھنڈی کھجوریں، لبِ تشنہ

محدود ہے کب رحمتِ آقائے مکرّم

ہر ساعتِ ویراں کو عطا ہوتی ہے شبنم

ہاتھوں میں لئے پھول، صبا رقص کرے گی

کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر

ہاں ہاں میں ہوں دیوانہ نبی جیؐ کا ازل سے

سورج سوا نیزے پہ بڑے شوق سے چمکے

شاید نہیں معلوم رقیبانِ سحر کو

تخلیقِ خدا، جن کا بدل کوئی نہیں ہے

تصویرِ ادب بن کے مواجھے میں کھڑے ہیں

کیسے میں دکھا پاؤں گا طیبہ کے مناظر

لے جاتے ہیں اُس شہرِ خنک میں مجھے ہر شب

یارب! ہوں عطا اور تسلسل سے عطا ہوں

سب مردہ ضمیروں کو جلا ڈالوں تو اچھا

بوسیدہ کتابوں کے ورق الٹو گے کب تک

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

محمد ﷺ کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو

غبارِ راہِ انور کس قدر پرنور ہے اخترؔ

قمر آیا ہے شاید ان کے تلووں کی ضیا لینے

فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر

فضائیں مہکی مہکی ہیں ہوائیں بھینی بھینی ہیں

مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی

ذرا اے مرکبِ عمرِ رواں چل برق کی صورت

طلب گارِ مدینہ تک مدینہ خود ہی آ جائے

جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلدِ مدینہ میں

مدینے میں کھلے بابِ حیاتِ نو بطرزِ نو

وہ چمکا گنبدِ خضریٰ وہ شہرِ پُر ضیا آیا

مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبرِ منزل