Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں

مدینہ کی نچھاور ہیں یہ میرا دل مری آنکھیں

الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاکِ طیبہ میں

کرم ان کا چلا یوں دل سے کہتا راہِ طیبہ میں

قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے

جو دیکھے ان کا نقشِ پا خدا سے وہ نظر مانگوں

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج

تنگ ٹھہری ہے رضاؔ جس کے لئے وُسعتِ عرش

پانسو۵۰۰ سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام

فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضِر

شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال

لاج رکھ لی طمعِ عفو کے سودائی کی

اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں

اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں

سویا کیے نابکار بندے

پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے

ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ

تُم وہ کہ کرم کو ناز تم سے

مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی

مجبور ہیں ہم تو فِکر کیا ہے

میں دُور ہوں تم تو ہو مِرے پاس

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری

غم ہو گئے بے شمار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا

بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا

خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا تو تو ہے عَبدِ مصطفٰی

تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں

پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار

شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز

گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!

اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گِراغش آگیا

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام

بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھو کر

اے رضاؔ آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی

عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں

مُشک سا زلف شہ و نور فشاں رُوئے حضور

تجھ سے اے گل میں سِتم دیدۂ دشتِ حرماں

دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم