Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا

خوب مسعٰے میں بامید صفا دوڑ لیے

رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں

جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے

ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں

کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت

دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد

مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم

عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیل انجاح

زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ

ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ

اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا

خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ

دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی

مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد

رُکنِ شامی سے مِٹی وحشت شامِ غربت

آبِ زمزم تو پِیا خُوب بجھائیں پیاسیں

زیرِ میزاب مِلے خوب کرم کے چھینٹے

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو

رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا

اب آئی شفاعت کی ساعت، اب آئی

رضاؔ! نفس دشمن ہے، دم میں نہ آنا

چل اُٹھ، جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پر

ترا کھائیں، تیرے غلاموں سے الجھیں

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا

میں مجرم ہوں، آقا! مجھے ساتھ لے لو

مدینہ کے خطے، خدا تجھ کو رکھے

تو زندہ ہے، واللہ! تو زندہ ہے، واللہ!

برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

تارِ شیرازۂ مجموعۂ کونین ہیں یہ

تیل کی بُوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضاؔ

اُحدِ پاک کی چوٹی سے اُلجھ لے شب بھر

مژدہ ہو قبلہ سے گھنگھور گھٹائیں اُمڈیں

شانہ ہے پنجۂ قدرت تِرے بالوں کے لئے

دیکھو قرآں میں شبِ قدر ہے تا مطلعِ فجر

بِھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واللہ

شانِ رحمت ہے کہ شانہ نہ جُدا ہو دم بھر

سِلسلہ پا کے شفاعت کا جھکے پڑتے ہیں

مُشک بُو کوچہ یہ کس پھول کا جھاڑا ان سے

سُوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے

کعبۂ جاں کو پنھایا ہے غلافِ مُشکیں

گوش تک سُنتے تھے فریاد اب آئے تادوش

آخرِ حج غمِ اُمّت میں پریشاں ہو کر

چرچے حُوروں میں ہیں دیکھو تو ذرا بال براق

ہم سِیہ کاروں پہ یاربّ تپشِ محشر میں