مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد
اپنی اُس شمع کو پَروانہ یہاں کا دیکھو
Misl-e-Parwana phira karte the jis shama ke gird
Apni us shama ko parwana yahan ka dekho
متعلقہ اشعار
راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے
پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
خشک ہے خون کہ دشمن ظالِم
سخت خونخوار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
ہم کو بِد کر وہی کرنا جس سے
دوست بیزار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
تن کی اب کون خبر لے ہے ہے
دِل کا آزار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱