کعبۂ جاں کو پنھایا ہے غلافِ مُشکیں
اُڑ کر آئے ہیں جو اَبرو پہ تمہارے گیسو
Ka'bah-e-jaan ko pinhaaya hai ghilaaf-e-mushkeen
Ur kar aaye hain jo abroo pe tumhaare gesu
متعلقہ اشعار
راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے
پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
خشک ہے خون کہ دشمن ظالِم
سخت خونخوار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
ہم کو بِد کر وہی کرنا جس سے
دوست بیزار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
تن کی اب کون خبر لے ہے ہے
دِل کا آزار ہے کیا ہونا ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱