Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا

آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں

دے خدا ہمّت کہ یہ جانِ حزیں

عرض کا بھی اب تو مُنھ پڑتا نہیں

اپنی اِک میٹھی نظر کے شہد سے

اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر

کِس سے کہیے کیا کِیا کیا ہو گیا

اَقربا حُبِّ وَطن بے ہمتی

اب تو آقا مُنھ دِکھانے کا نہیں

پھر پلٹ کر مُنھ نہ اُس جانب کیا

ہر برس وہ قافلوں کی دُھوم دھام

تجھ سے کیا کیا اے مِرے طیبہ کے چاند

دَر بدر کب تک پِھریں خستہ خراب

آپ سلطانِ جہاں ہم بے نوا

عالمِ علم دو عالم ہیں حضور

ہم تمہارے ہو کے کس کے پاس جائیں

مَنْ رَاٰنِی قَدْ رَأَی الْحَق جو کہے

نعرہ کیجے یارسول اللہ کا

عذر بدتر از گنہ کا ذِکر کیا

سر سے گِرتا ہے ابھی بارِ گناہ

آنکھ تو اُٹھتی نہیں کیا دیں جواب

عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گئیں

نیم وا طیبَہ کے پھولوں پر ہو آنکھ

جِس کا حُسن اللہ کو بھی بَھا گیا

حی باقی جس کی کرتا ہے ثنا

اُن کے دَر پر بیٹھیے بن کر فقیر

یادِ قامت کرتے اُٹھیے قبر سے

اُن کے در پر جیسے ہو مِٹ جائیے

پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں

ڈُوب کر یادِ لبِ شاداب میں

اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے

اُن کے حسنِ با ملاحت پر نثار

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا

خوب مسعٰے میں بامید صفا دوڑ لیے

رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں

جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے

ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں

کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت

دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد

مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم

عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیل انجاح

زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ

ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ

اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں

خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا

دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی

مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد