Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے

اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف

یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

اَبھی اَبھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ

الٰہی سُن لے رضاؔ جیتے جی کہ مولیٰ نے

مَدینہ چھوڑ کے وِیرانہ ہندؔ کا چھایا

تُو جس کے واسطے چھوڑ آیا طیبہ سا محبوب

نہ گھر کا رکھا نہ اس دَر کا ہائے ناکامی

جو دِل نے مَر کے جلایا تھا منّتوں کا چراغ

تِرا ستم زدہ آنکھوں نے کیا بِگاڑا تھا

حضور اُن کے خیالِ وطن مٹانا تھا

یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالِم

چمن سے پھینک دیا آشیانۂ بلبل

یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس

نہ رُوئے گُل ابھی دیکھا نہ بُوئے گُل سُونگھی

وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالا

جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضاؔ

خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا

دے خدا ہمّت کہ یہ جانِ حزیں

آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں

عرض کا بھی اب تو مُنھ پڑتا نہیں

اپنی اِک میٹھی نظر کے شہد سے

اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر

کِس سے کہیے کیا کِیا کیا ہو گیا

اَقربا حُبِّ وَطن بے ہمتی

اب تو آقا مُنھ دِکھانے کا نہیں

پھر پلٹ کر مُنھ نہ اُس جانب کیا

ہر برس وہ قافلوں کی دُھوم دھام

تجھ سے کیا کیا اے مِرے طیبہ کے چاند

دَر بدر کب تک پِھریں خستہ خراب

آپ سلطانِ جہاں ہم بے نوا

عالمِ علم دو عالم ہیں حضور

ہم تمہارے ہو کے کس کے پاس جائیں

مَنْ رَاٰنِی قَدْ رَأَی الْحَق جو کہے

عذر بدتر از گنہ کا ذِکر کیا

نعرہ کیجے یارسول اللہ کا

سر سے گِرتا ہے ابھی بارِ گناہ

آنکھ تو اُٹھتی نہیں کیا دیں جواب

عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گئیں

نیم وا طیبَہ کے پھولوں پر ہو آنکھ

جِس کا حُسن اللہ کو بھی بَھا گیا

حی باقی جس کی کرتا ہے ثنا

اُن کے دَر پر بیٹھیے بن کر فقیر

یادِ قامت کرتے اُٹھیے قبر سے

اُن کے در پر جیسے ہو مِٹ جائیے

پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں

ڈُوب کر یادِ لبِ شاداب میں

اُن کے حسنِ با ملاحت پر نثار