Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا

بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا

خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا تو تو ہے عَبدِ مصطفٰی

تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں

پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار

شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز

گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!

اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام

عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گِراغش آگیا

بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھو کر

اے رضاؔ آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی

عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں

مُشک سا زلف شہ و نور فشاں رُوئے حضور

تجھ سے اے گل میں سِتم دیدۂ دشتِ حرماں

دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم

بہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر

اشک برساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم

عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

اے رضاؔ طوفانِ محشر کے طَلاطُم سے نہ ڈر

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آ گئی

ایک ٹھوکر میں اُحد کا زلزلہ جاتا رہا

تاجِ رُوح القدْس کے موتی جسے سجدہ کریں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیے

دو قمر، دو پنجۂ خور، دو ستارے، دس ہِلال

اُن کا منگتا پاؤں سے ٹھکرا دے وہ دُنیا کا تاج

نجمِ گَردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں

دَب کے زیر پا نہ گنجایش سمانے کو رہی

جا بجا پرتو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی

ظاہر و باطن اَوّل و آخر زیب فروع و زَین اُصول

اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے

یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار

مولیٰ گُلْبُن، رحمت زہر ا،سِبْطَیناس کی کلیاں پُھول

شاخِ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

کٓ گیسو ٰ ہ دَہن یٰ ابرو آنکھیں عٓ صٓ

اے رضاؔ یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے

صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں

چاند جھک جاتا جِدھر اُنگلی اٹھاتے مَہد میں

ایک سینہ تک مُشابہ اک وہاں سے پاؤں تک

دیدِ نقشِ سُم کو نکلی سات پَردوں سے نگاہ

عکسِ سم نے چاند سُورج کو لگائے چار چاند

سبزۂ گَردوں جھکا تھا بہرِ پا بوسِ بُراق

تابِ سم سے چوندھیا کر چاند اُنھیں قدموں پھرا

ذرّے مِہرِ قُدس تک تیرے تَوَسُّط سے گیے