Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

بہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر

اشک برساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم

عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

اے رضاؔ طوفانِ محشر کے طَلاطُم سے نہ ڈر

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آ گئی

ایک ٹھوکر میں اُحد کا زلزلہ جاتا رہا

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیے

تاجِ رُوح القدْس کے موتی جسے سجدہ کریں

دو قمر، دو پنجۂ خور، دو ستارے، دس ہِلال

اُن کا منگتا پاؤں سے ٹھکرا دے وہ دُنیا کا تاج

نجمِ گَردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں

دَب کے زیر پا نہ گنجایش سمانے کو رہی

جا بجا پرتو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی

ظاہر و باطن اَوّل و آخر زیب فروع و زَین اُصول

اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے

یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار

مولیٰ گُلْبُن، رحمت زہر ا،سِبْطَیناس کی کلیاں پُھول

شاخِ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

کٓ گیسو ٰ ہ دَہن یٰ ابرو آنکھیں عٓ صٓ

اے رضاؔ یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے

صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں

چاند جھک جاتا جِدھر اُنگلی اٹھاتے مَہد میں

ایک سینہ تک مُشابہ اک وہاں سے پاؤں تک

دیدِ نقشِ سُم کو نکلی سات پَردوں سے نگاہ

عکسِ سم نے چاند سُورج کو لگائے چار چاند

سبزۂ گَردوں جھکا تھا بہرِ پا بوسِ بُراق

تابِ سم سے چوندھیا کر چاند اُنھیں قدموں پھرا

ذرّے مِہرِ قُدس تک تیرے تَوَسُّط سے گیے

تابِ حُسنِ گرم سے کھل جائیں گے دل کے کَنول

سُرمَگیں آنکھیں حَریمِ حق کے وہ مُشکِیں غَزال

یہ جو مِہر و مَہ پہ ہے اِطلاق آتا نور کا

وضْعِ واضع میں تِری صورت ہے معنی نور کا

اَنبیا اَجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا

نَزع میں لوٹے گا خاکِ در پہ شیدا نور کا

تابِ مِہرِ حشر سے چونکے نہ کُشْتہ نور کا

آنکھ مِل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا

تم مُقابِل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا

قبرِ انور کہیے یا قصرِ مُعلّٰے نور کا

اب کہاں وہ تابِشیں کیسا وہ تڑکا نور کا

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا

شمع ساں ایک ایک پروانہ ہے اس با نور کا

اَنجمن والے ہیں اَنجم بَزم حلقہ نور کا

یاں بھی داغِ سجدۂ طَیبہ ہے تَمغا نور کا

بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا

دیکھ ان کے ہوتے نازیبا ہے دعویٰ نور کا