ہے رتبہ اس لیے کونین میں عصمت کا عفت کا
شرف حاصل ہے ان کو دامنِ زہرہ سے نسبت کا
صدقہ تم پر ہوں دل و جاں آمنہ
تم نے بخشا ہم کو ایماں آمنہ
اس مبارک ماں پہ صدقہ کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں
جو ہو اُمّ المومنیں بنتِ امیر المومنیں
بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ
جو مرکز ہے شریعت کا طریقت کا ہے سر چشمہ
خلق پہ لطفِ خدا حضرتِ عثمان ہیں
جملہ مرض کی دَوا درد کے درمان ہیں
بہارِ باغِ اِیماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
چراغِ بزمِ عرفاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق
سروَری جس پہ کرے ناز وہ سروَر صدیق
ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم
تو ہی کرم کردے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم
برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابُوالحسین
مِدحتِ سرورِ دیں میرے محب نے لکھی
بالیقیں گلشنِ فردوس کی ہوگی یہ سبیل
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا وِیران ہے برباد ہے
مرشدِ برحق شہِ احمد رضا
عالمِ دِیں وارثِ پیغمبراں
آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
رہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری
یَا نَبِی سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَارَسُوْل سَلَامٌ عَلَیْک
تری مدح خواں ہر زباں غوثِ اعظم
ترا نام مومن کی جاں غوثِ اعظم
نہیں میرے اچھے عمل غوثُ الاعظم
مگر تم پہ رکھتا ہوں بل غوثُ الاعظم
ہے دِل کو تری جستجو غوثِ اعظم
زَباں پر تری گفتگو غوثِ اعظم
تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
ملی ہے تجھے گیارہویں غوثِ اعظم
کیا لکھوں عز و علائے غوثِ پاک
ہو نہیں سکتی ثنائے غوثِ پاک
جان و دِل سے تم پہ میری جان قرباں غوثِ پاک
ہے سلامت تم سے میرا دِلین و ایماں غوثِ پاک
رکھتا ہے جو غوثِ اعظم سے نیاز
ہوتا ہے خوش اُس سے مولیٰ بے نیاز
کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یاغوث
دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوثِ اعظم کا
کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈَنکا غوث کا
شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین
جانِ مراد کانِ ہدیٰ شانِ اِہتدا
ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار
گواہ ہیں دلِ مخزون و چشمِ دَریا بار
سن لو میری اِلتجا اچھے میاں
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
اَسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم
فقیروں کے حاجت رَوا غوثِ اعظم
اللہ برائے غوثِ اعظم
دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم
بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے اَرمانِ جمال
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
مدد پر ہو تیری اِمداد یاغوث
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت رَوا فاروقِ اعظم سا
بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
سروَرا مرجعِ کل ہے دَرِ والا تیرا
دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
تیری آمد ہے موت آئی ہے
جانِ عیسیٰ تیری دُہائی ہے
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے