مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے
کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے
تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے
تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو
شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں
ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں
رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں
تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم
ضیائے سراج الظلم غوثِ اعظم
کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم
مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم
ترا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم
ترا چہرہ اِیماں فزا غوثِ اعظم
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تیرے دَم سے عالم چمکا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
اعلیٰ سے اعلیٰ رِفعت والے بالا سے بالا عظمت والے
سب سے برتر عزت والے صَلَّی اللہُ صَلَّی اللہ
تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
سب سے اَعلیٰ عزت والے غلبہ و قہر و طاقت والے